1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی بلاگر رائف بدوی کی بہن رہا کر دی گئی

سعودی جیل میں قید سعودی بلاگر رائف بدوی کی بہن اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن سمر بدوی کو کچھ گھنٹے مقید رکھنے کے بعد سعودی حکام نے رہا کر دیا ہے۔

34 سالہ سمر بدوی کو سعودی عرب کے بڑے شہر جدہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے سابقہ شوہر ولید ابو الخیر کا ٹوئٹر اکاؤنٹ چلانے کے جرم میں سعودی حکام نے حراست میں لیا گیا تھا۔ اُن کی گرفتاری اور رہائی کے حوالے سے سعودی حکام نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

سمر بدوی کی رہائی کی تصدیق بھی اسی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی۔ ولید ابو الخیرسعودی بلاگر اور سمر بدوی کے بھائی رائف بدوی کے وکیل دفاع بھی تھے۔ وہ سمر بدوی کے سابق شوہر بھی ہیں۔ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے ایک انسانی حقوق گروپ کے کو قاسم اور گرفتاری سے قبل وہ اس کے سربراہ بھی تھے۔ اس وقت ولید ابو الخیر سعودی عرب میں 15 سال کی قید کاٹ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے مطابق انہیں انتہائی بےبنیاد الزامات کی بنیاد پر سزا دی گئی ہے۔

سمر بدوی سن 2012 میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ’انٹرنیشنل ویمن آف کَرج‘ کا ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں ۔ انہیں سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک سرگرم کارکن تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے بھائی رائف بدوی کو تین برس قبل سعودی مذہبی پولیس پر تنقید کرنے کے الزام میں10 سال قید اور مذہب اسلام کے بارے میں توہین امیز کلامات ادا کرنے کے الزام میں ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

سمربدوی کو حراست میں لیے جانے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا تھا، ’’سمر باداوی کی حراست یہ ثابت کرتی ہے کہ سعودی حکومت اپنی مخالف تمام آوازوں کو دبانا چاہتی ہے۔ سمربدوی کی گرفتاری کا واقعہ ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب مسلم دنیا کے کچھ ملکوں میں معروف سعودی شیعہ عالم نمر النمر کو سزائے موت دینے کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔