1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی ایرانی مصالحت کے لیے نواز شریف ریاض اور تہران جائیں گے

ایک سرکردہ سعودی شیعہ رہنما کو دی گئی سزائے موت کے بعد سے روایتی حریف مسلم ریاستوں سعودی عرب اور ایران کے مابین شدید کشیدگی میں کمی کی کوشش کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف آئندہ ہفتے ریاض اور تہران جائیں گے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ہفتہ سولہ جنوری کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ نمر النمر کو سعودی عرب میں دی گئی سزائے موت کے بعد ایران میں سعودی سفارت خانے پر مشتعل ایرانی مظاہرین کے حملے کے بعد ریاض حکومت کے علاوہ اب تک اس کی کئی اتحادی ریاستیں بھی تہران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر چکی ہیں۔

اسی پس منظر میں چند روز قبل سعودی وزیر خارجہ الجبیر نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا جبکہ سفارتی حوالے سے پاکستان اس وقت اس لیے مشکل میں ہے کہ اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف کی موجودہ حکومت سیاسی طور پر تو سعودی عرب کے کافی قریب ہے لیکن پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک بھی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین کے مطابق اسلام آباد یہ بھی نہیں چاہتا کہ اسے ان دونوں اہم اسلامی ملکوں میں سے کسی ایک کے لیے کھل کر اپنی حمایت اور دوسرے کی ممکنہ مخالفت کا اظہار کرنا پڑے۔

پاکستانی حکومت اسی لیے مسلسل اس کوشش میں ہے کہ شیعہ اکثریتی ایران اور سنی اکثریتی آبادی والے سعودی عرب کو دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لاتے ہوئے ان کے مابین کشیدگی کو کم کیا جائے۔

اس سلسلے میں پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے آج ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف پیر 18 جنوری کے روز سعودی عرب جائیں گے، جہاں وہ شاہ سلمان سے ملاقات کریں گے۔ اس سے اگلے روز منگل 19 جنوری کو نواز شریف تہران جائیں گے، جہاں وہ ایرانی صدر حسن روحانی سے ملیں گے۔

اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ سعودی وزیر خارجہ الجبیر نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی تھی، جس کے بعد کہا گیا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے مفادات پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔

یہ فیصلہ پاکستانی حکومت اور فوج کے اسی موقف کا تسلسل معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ پیر اور منگل کے روز جب وزیر اعظم نواز شریف سعودی عرب اور ایران جائیں گے، تو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہوں گے۔

Raheel Sharif und Premierminister Nawaz Sharif

ان دوروں کے دوران فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف بھی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ہوں گے

ایران اور سعودی عرب کے مابین روایتی اختلافات اور ان کے مذہبی طور پر شیعہ اور سنی مسالک کے پیروکار مسلمانوں کی اکثریت والے حریف ممالک ہونے کے علاوہ عالمی سیاست کے موجودہ تناطر میں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دو اہم مسلم ملکوں شام اور یمن کے مسلح تنازعات میں بھی ایران اور سعودی عرب وہاں کے متحارب فریقین کے حامی ہیں۔ سعودی عرب شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت اور یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف ہے جبکہ ایران ان دونوں کا حامی ہے۔

سعودی شیعہ رہنما آیت اللہ النمر کو دہشت گردی کے جرم میں دی گئی سزائے موت کے بعد نہ صرف ریاض اور تہران حکومتوں نے ایک دوسرے کے ہاں سے اپنے سفیر واپس بلا کر سفارتی روابط منقطع کر لیے تھے بلکہ سعودی عرب کی تقلید میں اب تک کئی دیگر ملک بھی ایران سے اپنے سفیر واپس بلا چکے ہیں۔

دیگر خبر ایجنسیوں کے مطابق تہران اور ریاض کے مابین کشیدگی میں کمی کے لیے اسلام آباد کی کوشش اہم بھی ہے اور قابل فہم بھی لیکن اس کام کے مشکل ہونے سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

DW.COM