1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی اور ترک زمینی دستے شام روانہ کیے جا سکتے ہیں، مبصرین

مبصرین کے مطابق روس نواز شامی حکومت کی عسکری کارروائیوں کی نتیجے میں باغی فورسز کی پسپائی پر شامی اپوزیشن کے اتحادی ممالک سعودی عرب اور ترکی شام میں محدود تعداد میں زمینی دستے شام بھیج سکتے ہیں۔

Türkische Armee-Transporter nah der Grenze zu Syrien

روس نے ترکی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام میں عسکری مداخلت کی تیاریوں میں مصروف ہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں مبصرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ شام میں باغیوں کی ناکامی کی صورت میں سعودی عرب اور ترکی اپنی اپنی افواج زمینی کارروائی کے لیے شام روانہ کر سکتے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ریاض حکومت نے کہا ہے کہ وہ شام میں فعال انتہا پسند گروہ داعش کے خلاف امریکی سرپرستی میں جاری عالمی کارروائی میں تعاون کرتے ہوئے اپنے زمینی دستے مہیا کر سکتا ہے۔

DW.COM

لندن کے کنگز کالج میں ڈیفنس اسٹڈیز سے وابستہ آندریاس کریگ نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’سعودی عرب شام میں کچھ کرنے کے لیے بے قرار ہے۔‘‘ ان کا اشارہ صدر بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کی کوششوں کی طرف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حلب میں دمشق حکومت کی حامی فوج کنٹرول حاصل کر لیتی ہے تو یہ پشرفت شام کی ’اعتدال پسند‘ اپوزیشن کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو گی۔

شامی فورسز روس جیٹ طیاروں کی بمباری کی وجہ سے شام کے دوسرے سب سے بڑے شہر حلب کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ کریگ کے مطابق، ’’یہ پیشرفت سعودی اور قطر کی حکومتوں کے لیے مشکل بنی ہوئی ہے کیونکہ ان دونوں ممالک نے اس اعتدال پسند اپوزیشن پر ایک بہت بڑی سرمایا کاری کر رکھی ہے۔‘‘

ایک اور تازہ پیشرفت میں شامی صدر بشار الاسد کے حامی ملک روس نے ترکی پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس کی افواج شام میں عسکری مداخلت کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ تاہم ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے روس کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’مضحکہ خیز‘ قرار دے دیا ہے۔

زمینی دستے روانہ کرنے کا نہ سوچا جائے، شامی وزیر خارجہ

شام میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی کی خبروں پر دمشق حکومت نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے انقرہ اور ریاض کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو شام کی خود مختاری و سالمیت کی خلاف ورزی کا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر غیر ملکی فوجیں شام کی سرزمین میں داخل ہوئی تو ان کی لاشیں تابوتوں میں واپس جائیں گی، ’چاہے ان کا تعلق ترکی سے ہو یا سعودی عرب سے‘

ادھر شام کے ایک اور اتحادی ملک ایران کے ایلیٹ روولوشنری گارڈز کے کمانڈر میجر جنرل علی جعفری نے کہا ہے کہ ’’سعودی فوج شام میں داخل ہونے کی ہمت نہیں رکھتی ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔‘‘

شامی صوبہ حلب شام کی مسلح اپوزیشن کا ایک اہم گڑھ تصور کیا جاتا ہے لیکن حالیہ عرصے کے دوران شامی فوج نے روسی فضائی حملوں کے تعاون سے وہاں کئی علاقوں میں کامیاب پیشقدمی کی ہے۔ ناقدین کے مطابق زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حلب میں مسلح اپوزیشن پسپائی کا شکار ہو سکتی ہے۔

اس صورتحال میں گلف ریسرچ سینٹر سے وابستہ مصطفیٰ ایلانی نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب کو یقین ہے کہ شام کا تنازعہ پر امن طریقے سے حل نہیں ہو سکتا ہے اور وہ جنگ کے ذریعے ہی کوئی حل نکالنا چاہتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام میں روسی فضائیہ کی مداخلت کے بعد ترکی بھی شام میں زمینی دستے روانہ کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

Syrien Russischer Luftangriff in Aleppo

خانہ جنگی کی وجہ سے شام کا تاریخی شہر حلب اب کھنڈر دیکھائی دیتا ہے

’سعودی عرب یمن کی جنگ کو زیادہ اہمیت دیتا‘

مصطفیٰ ایلانی کے مطابق اگر ترک زمینی دستے شام میں روانہ کیے جاتے ہیں تو ریاض حکومت بھی اپنی فوجی شام روانہ کر سکتی ہے۔ تاہم دیگر کئی سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق ایلانی کا بھی خیال ہے کہ شام کی خانہ جنگی میں سعودی عرب کی مداخلت محدود پیمانے پر ہو گی کیونکہ اسے یمن میں بھی ایک بحران کا سامنا ہے۔

دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے سعودی عرب کے اس بیان کو خوش آئند قرار دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ شام میں داعش کے خلاف زمینی کارروائی کے لیے اپنے فوجی فراہم کرنے کے بارے میں غور کر سکتا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ جہادیوں کے خلاف جاری کارروائی میں شامل عالمی اتحاد کا اہم ملک امریکا عرب ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ داعش کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے مزید تعاون کریں۔

لندن کے Chatham House سے منسلک محقق جین کینن مونٹ کا خیال ہے کہ سعودی عرب داعش کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے یمن کی جنگ کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ریاض حکومت علامتی طور پر شام میں اپنے کچھ فوجی روانہ کرتے ہوئے دعویٰ کر سکتی ہے کہ وہ داعش کے خلاف عالمی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔ اس خاتون محقق نے شام میں ترک زمینی دستوں کی روانگی پر شبہات کا اظہار بھی کیا ہے۔