1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی اسکول میں فائرنگ، دو ہلاک

سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم ایک اسکول میں فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ اسکول ایک ارب پتی اور نامور سعودی شہری کا ہے۔

ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے کے حوالے سے بتایا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ جس وقت ہوا اُس وقت مذکورہ اسکول بند تھا اور وہاں بچے موجود نہیں تھے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سکیورٹی کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس عراقی پس منظر رکھنے والے ایک شخص کی تلاش میں ہے جو اسی اسکول میں کام کرتا تھا۔ سعودی عرب میں ان دنوں زیادہ تر اسکولوں میں چھٹیاں ہیں۔

اس ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’’ایک استاد بندوق لے کر اسکول کے ایک کمرے میں گیا اور اسکول کے نائب پرنسپل اور ایک اور ملازم کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔‘‘ اس ذریعے کا مزید کہنا تھا کہ تفتیش کار اس واقعے کو ایک مجرمانہ کارروائی کے طور پر لے رہے ہیں نہ کہ کسی ’’دہشت گردانہ کارروائی‘‘ کے۔

Prinz Alwaleed bin Talal (picture-alliance/AP Photo/M. Mohammed)

کنگڈم اسکول اُس گروپ کا حصہ ہے جو سعودی شہزادہ الولید بِن طلال کی ملکیت ہے

سعودی میڈیا کے مطابق فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص اور ہلاک ہونے والوں کے درمیان اختلافات موجود تھے۔ ریاض میں قائم امریکی مشن کی طرف سے جاری ہونے والے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا گیا ہے، ’’ریاض میں واقع کنگڈم اسکول میں فائرنگ ہوئی ہے۔ اسکول بند ہے، کوئی بچے موجود نہیں۔ برائے مہربانی اس علاقے میں جانے سے گریز کریں۔‘‘ ٹوئیٹر پر جاری کیے جانے والے اس پیغام میں تاہم میں ہلاکتوں کی تعداد یا فائرنگ کی وجوہات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

کنگڈم اسکول اُس گروپ کا حصہ ہے جو سعودی شہزادہ الولید بِن طلال کی ملکیت ہے۔ ریاض کے وسطی حصے میں واقع یہ اسکول سن 2000ء میں کھولا گیا۔ اسکول کی ویب سائٹ کے مطابق یہ اسکول لڑکوں اور لڑکیوں کو کنڈرگارٹن سے لے کر ہائی اسکول تک تعلیم فراہم کرتا ہے۔ اس اسکول میں سعودی نصاب کے علاوہ ایک انٹرنیشنل پروگرام کے تحت بھی تعلیم دی جاتی ہے جس کے تحت بچے امریکی ڈپلومہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق کنگڈم اسکول کی ریاض میں قائم مختلف برانچوں میں چار ہزار کے قریب طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ وہاں 300 اساتذہ تدریسی فرائض انجام دیتے ہیں۔