1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی اتحادیوں کی جنازے پر بمباری، ہلاکتیں 140 سے زائد

سعودی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے ہفتے کے روز ایک جنازے پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 140 سے تجاوز کر گئی ہے۔ جنازے کی اس تقریب میں ہزاروں افراد شریک تھے۔

یمنی دارالحکومت صنعاء میں نمازِجنازہ کی ادائیگی کے لیے جمع مجمع پر اس بمباری کے نتیجے میں 525 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کے مطابق یمن میں جاری خانہ جنگی میں یہ اب تک کا خونریز ترین حملہ تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب نے آج اتوار نو اکتوبر کو اعلان کیا ہے کہ وہ یمن میں ’’قابل افسوس اور تکلیف بمباری کی رپورٹوں‘‘ کے بارے میں تحقیقات کرے گا۔ تاہم فوری طور پر اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ یمنی تنازعے میں صرف سعودی اتحادی ہی وہ طاقت ہیں جس کے پاس فضائی بمباری کی صلاحیت ہے۔

سعودی سربراہی میں قائم اتحادی ممالک یمن کے صدر عبد ربو منصور ہادی کی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے ایران نواز حوثی باغیوں اور سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی حامی فورسز کے خلاف گزشتہ برس مارچ سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ قبل ازیں اتحادیوں کی طرف سے ہسپتالوں، مارکیٹوں اور دیگر عوامی مقامات کو بمباری کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ہفتہ آٹھ اکتوبر کو ہونے والے والی بمباری کے بعد امدادی کام سرانجام دینے والے مراد توفیق کے مطابق، ’’یہ مقام خون کی ایک جھیل میں تبدیل ہو گیا ہے۔‘‘ یمنی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں شیعہ حوثی باغیوں کے ملٹری اور سکیورٹی حکام بھی شامل ہیں۔

YEMEN-CONFLICT-SANAA-STRIKES (AFP/Getty Images)

ہلاک ہونے والوں میں دارالحکومت صنعاء کی لوکل سکیورٹی کونسل کے سربراہ میجر جنرل عبدالقادر ہلال بھی شامل ہیں

اتحادیوں کی بمباری کا نشانہ بننے والا جنازہ شیخ علی الرویشان کا تھا، جو باغیوں کی قائم کردہ حکومت میں وزیر داخلہ جلال الرویشان کے والد تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دارالحکومت صنعاء کی لوکل سکیورٹی کونسل کے سربراہ میجر جنرل عبدالقادر ہلال بھی شامل ہیں۔ جبکہ جلال الرویشان شدید زخمی ہیں۔

صنعاء میں حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے اس فضائی حملے کی انتہائی شدید مذمت کی اور اسے سعودی سربراہی میں قائم اتحاد کی طرف سے ’نسل کُشی‘ کا تازہ ترین جرم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی خاموشی قاتلوں کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔‘‘

سعودی عرب کی طرف سے آج اتوار کو علی الصبح جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’یمن کی جائز و قانونی حکومت کی مدد کرنے والے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ صنعا کے ’گریٹ ہال‘ پر ہونے والی اُس افسوسناک اور تکلیف دہ بمباری کی رپورٹوں کے بارے میں آگاہ ہے، جو ہلاکتوں اور لوگوں کے زخمی ہونے کی وجہ بنی۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’اتحاد اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کے فوجیوں کو اس بات کی واضح ہدایات ہیں کہ وہ گنجان علاقوں کو اور سویلین کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔‘‘

یمن میں اقوام متحدہ کی طرف سے ہیومینیٹیرین کوارڈینیٹر جیمی میک گولڈرک  نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں موجود انسانی بنیادوں پر امداد کرنے والے ان فضائی حملوں پر ’’ سکتے میں ہیں اور غم سے نڈھال‘‘ ہیں۔ ان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’یمن میں سویلین کے خلاف تشدد کے سلسلے کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔‘‘

DW.COM