1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعد حریری اور محمود عباس اچانک سعودی عرب پہنچ گئے

فلسطینی صدر محمود عباس، شاہ سلمان اور ان کے بیٹے سے اہم ملاقات کے لیے ایک اچانک دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ دوسری جانب لبنانی وزیراعظم سعد حریری بھی مستعفی ہونے کے بعد ریاض آ گئے ہیں۔

نیوز ایجنسی وفا کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس ایک اہم ملاقات کے لیے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچ گئے ہیں۔ فلسطینی صدر، شاہ سلمان اور کراؤن پرنس محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں مبینہ طور پر ایران اور اس کے حماس کے ساتھ تعلقات پر بات چیت کی جائے گی۔ ممکنہ طور پر اس بات پر  بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ کس طرح ایران اور حماس کے تعلق کو کمزور بنایا جا سکتا ہے۔

دو بڑی فلسطینی تنظیموں الفتح اور حماس نے بارہ اکتوبر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک مصالحتی معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کا مقصد مغربی اردن اور غزہ پٹی میں ایک متحدہ حکومت کا قیام ممکن بنانا ہے۔ طے پانے والے معاہدے کے مطابق یکم دسمبر سے محمود عباس کی حکومت غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھال لے گی۔

’زندگی خطرے میں ہے‘، لبنانی وزیر اعظم نے استعفیٰ دے دیا

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اکتوبر کے اواخر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر اور مشرق وسطیٰ کے خصوصی مندوب جیسن گرین بلاٹ نے بھی سعودی عرب کا ایک خفیہ دورہ کیا تھا۔ اس دورے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کا دوبارہ آغاز کرنا بتایا گیا تھا۔ امریکا سعودی عرب کی حمایت کے ساتھ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔

فلسطینی صدر سے پہلے سعد حریری بھی سعودی عرب پہنچے تھے۔ انہوں نے گزشتہ ویک اینڈ پر اچانک یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور  اس کے حمایتی ملک ایران سے خطرہ ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعد حریری نے شاہ سلمان کے ساتھ ایک ملاقات کی ہے، جس میں سعودی وزیر خارجہ اور داخلہ بھی شریک تھے۔ اس ملاقات میں لبنان میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران پر گفتگو کی گئی ہے۔

دوسری جانب لبنان کے صدر نے ملک کی تمام پارٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سعد حریری کے استعفے کے بعد متحد رہیں۔ لبنان کی پارلیمان اس وقت شدید تقسیم کا شکار ہو چکی ہے۔ 

DW.COM