1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعد الحریری فرانسیسی صدر سے ملیں گے

سابق لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کل ہفتہ اٹھارہ نومبر فرانسیسی صدر کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ فرانس کی کوشش ہے کہ لبنان میں امن قائم رہے اور وہاں انتشار کی کیفیت پیدا نہ ہو۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے ساتھ ملاقات کی تصدیق لبنان کے وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے کی ہے۔ چار نومبر کو منصب وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے والے لبنانی سیاستدان سعد الحریری ہفتہ اٹھارہ نومبر کو فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں صدر ایمانوئل ماکروں کے ساتھ ملاقات میں اُن حالات پر گفتگو کریں گے، جنہیں اُن کو سامنا ہے۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس ملاقات میں لبنانی بحران کو حل کرنے کی مثبت کوشش کی جائے گی۔

سعودی عرب میں ’آزاد‘ ہوں، جلد لبنان واپس آؤں گا، حریری

حریری لوٹ کیوں نہیں رہے، سعودی عرب وضاحت کرے، لبنانی صدر

لبنان کی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، جرمن وزیر خارجہ

’زندگی خطرے میں ہے‘، لبنانی وزیر اعظم نے استعفیٰ دے دیا

لبنانی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پیرس میں ہونے والی ملاقات سے لبنان میں استحکام کا دروازہ کھلے گا اور بحرانی صورت حال میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد حاصل ہو گی۔ المشنوق کا یہ بیان ملکی صدر میشال عون کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ نہاد المشنوق کو الحریری کی سیاسی جماعت تیار المستقبل (Future Movement) کا انتہائی اہم اہلکار اور قریبی رفیق خیال کیا جاتا ہے۔

Libanon Marathon Demo für Hariri (picture-alliance/AP Photo/H. Ammar)

لبنانی رزیراعظم کی حمایت میں بیروت کے ایک مظاہرے کے شرکاء

اسی بحران کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں فرانس کے وزیر خارجہ ژاں ایو لیدریاں جمعرات سولہ ستمبر کو سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ ان کے سعودی دورے پر تہران حکومت کا شدید ردعمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق فرانسیسی پالیسی جانبدارانہ ہے اور یہ علاقائی تنازعے کو ہوا دے رہی ہے۔

ایرانی حکومت کا یہ بیان فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں ایو لیدریاں کے اُس بیان کے نتیجے میں ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران خطے میں بالادستی قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ تہران میں وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جانبدار فرانسیسی پالیسی سے ممکنہ بحران بھی اب حقیقت میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

Frankreich | Präsident Macron mit libanesischem Premierminister Saad Hariri (picture-alliance/AP Photo/L. Marin)

سعد الحریری نے رواں برس پہلی ستمبر کو فرانسیسی صدر سے ملاقات کی تھی

دوسری جانب لبنانی بحران کے تناظر میں وزیر خارجہ جبران باسل روس کے دورے پر ہیں۔ وہ اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف کے ساتھ اپنے ملک کی بحرانی صورت حال کو ملاقات کے دوران زیر بحث لائے ہیں۔ ماسکو میں لبنانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعد الحریری کے استعفے کی وجہ سے خطے میں ایک بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ باسل نے یہ بھی کہا کہ لبنان کے پاس اس بحران کا جواب دینے کی پوری طاقت ہے لیکن ابھی تک ایسا کرنا ضروری خیال نہیں کیا گیا۔

 

DW.COM