1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعدی حریری کے لیے وزارت عظمیٰ مشکل ہوتی ہوئی

لبنان کا سیاسی بحران کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ ایک مشکل سوال ہے لیکن سیاسی عدم استحکام بدستور گہرا ہوتا جارہا ہے۔ حریری کی عبوری وزارت عظمیٰ کو بھی اپوزیشن کی تنقید کا سامنا ہے۔

default

حسن نصراللہ اور سعد حریری: فائل فوٹو

شیعہ انتہاپسند جماعت حزب اللہ کے مرکزی لیڈر شیخ حسن نصر اللہ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ان کے تمام اتحادی سعد حریری کے وزیر اعظم بننے پر متفق نہیں بلکہ ان کی عبوری وزارت عظمیٰ کی بھی حمایت نہیں کی جائے گی۔ حسن نصر اللہ کے تازہ بیان سے قومی حکومت کی تشکیل کے لیے جاری لبنانی صدر مشیل سلیمان کی کوششوں کو ٹھیس پہنچی ہو گی۔

نئے وزیر اعظم کی نامزگی کے حوالے سے بات چیت کا عمل اتوار سے شروع ہوا ہے۔ آج پیر کو صدر کی جانب سے وزیر اعظم کی نامزدگی ہو سکتی ہے۔

حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ کئی دوسرے عرب ملکوں نے بھی صدر سلیمان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی اور شخص کو حکومتی بھاگ ڈور سنبھالنے کے لئے نامزد کریں۔ ان ملکوں میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اپوزیشن متفقہ طور پر حریری کے نام کو پیش نہیں کرے گی۔ شیعہ لیڈر کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ لبنان کے لئے وفادار حکومت کی تشکیل کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

NO FLASH Saad Hariri

سعد حریری اپنے والد مقتول رفیق حریری کے پوسٹر کے ساتھ

دوسری جانب حریری کے بلاک کی جانب سے پیر کو صدر سلیمان کو مطلع کردیا گیا تھا کہ ان کی نظر میں اس منصب کے لیے سعد حریری ہی واحد امیدوار ہیں۔ لبنان کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں سینئر سیاستدان عمر کرامی کا نام پیش کرسکتی ہیں۔ عمر کرامی شام نواز ہیں اور شمالی شہر ٹریپولی کے رہنے والے ہیں۔ وہ دوبار پہلے بھی لبنان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کے وقت بھی وہ وزیر اعظم تھے۔

گزشتہ بدھ کو سعد حریری کی وزارت عظمیٰ اس وقت ختم ہو گئی تھی جب حزب اللہ اور اس کی حلیف جماعتوں کے گیارہ اراکین پارلیمنٹ نے وزارتوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ سعد حریری اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف کی وجہ ان کے والد کے قتل کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے ٹریبیونل کی جانب سے بعض افراد پر مقدمے چلانے کا متوقع اعلان ہے۔ ان افراد کے نام اس ہفتہ کے آخر یا اگلے ہفتہ کے شروع میں ٹریبیونل کی جانب سے سامنے لائے جائیں گے۔ ایسے امکانات سامنے آئے ہیں کہ ان مشتبہ افراد میں انتہاپسند تنظیم حزب اللہ کے اہم لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔ رفیق حریری کا قتل فروری 2005 ء میں ایک بم دھماکے میں کیا گیاتھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس