1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سستے شمسی سیل کو فن لینڈ کا ٹیکنالوجی انعام

شمسی توانائی کو ذخیرہ کرنے والے ایک انتہائی کم قیمت سیل کی ایجاد پر بدھ کے روز فن لینڈ کی حکومت اور صنعت کا ملینیئم ٹیکنالوجی انعام مائیکل گراٹزیل کو دیا گیا ہے۔

default

اس کم قیمت سیل کوگراٹزیل سیل کے نام دیا گیا ہے۔ خیال ظاہرکیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں توانائی سے متعلق ٹیکنالوجی میں یہ سیل ایک اہم کردار کا حامل ہوگا۔ اس کی وجہ اس کی انتہائی کم قیمت کے ساتھ ساتھ بہتر کارکردگی بھی ہے، جس میں مستقبل میں مزید اضافے کی کوشش کی جائے گی۔

Solarenergie Solarzellen in den USA

مستقبل میں شمسی توانائی پر انسانی انحصار بڑھے گا

ملینیئم پرائز فاؤنڈیشن کی جانب سے آٹھ لاکھ یورو کا انعام اس سائنسدان کے نام کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے استعمال میں سیل ایک رہنما کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہ ملینیئم انعام ہر دو برسوں میں کسی شاندار ایجاد پر دیا جاتا ہے۔ اس انعام کے لئے کسی سائنسدان کے نام کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس کی ایجاد انسانی معیار زندگی میں کتنی بہتری پیدا کرنے کی استطاعت رکھتی ہے۔

گراٹزیل یہ انعام حاصل کرنے والے چوتھے سائنسدان ہیں۔ پہلی مرتبہ یہ انعام سن 2004ء میں برنرز لی کو ورلڈ وائیڈ ویب یعنی www متعارف کروانے پر دیا گیا تھا۔

نوبل انعام کے بعدفن لینڈ کے اس انعام کوسب سے زیادہ معتبر ایوارڈز میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ اس بار کم قیمت سولر سیل کے بعد دوسرا انعام کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ فرینڈ کو نامیاتی سیمی کنڈکٹرز کی ایجاد پر جبکہ مانچسٹر یونیورسٹی کمپیوٹر انجینئرنگ کے پروفیسرسٹیفن فربرکو دیا گیا۔ فربر نے 32 بٹ کے مائیکرو پروسیسرکو متعارف کروایا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM