1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سزا یافتہ ایرانی شعراء ملک سے فرار ہونے میں کامیاب

ایران سے تعلق رکھنے والے شاعر مہدی موسوی اور شاعرہ فاطمہ اختصاری اپنے ملک سے فرار ہو کر ایک دوسرے ملک پہنچ گئے ہیں۔ انہیں ایک ایرانی عدالت نے کوڑوں اور لمبی مدت کی سزائیں سنائی تھیں۔

ایرانی شاعرہ فاطمہ اختصاری نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ اور اُن کے ساتھی مہدی موسوی حالیہ ایام میں چھپ چھپا کر ایران سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اختصاری نے یہ نہیں بتایا کہ وہ دونوں ایران سے کیسے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اختصاری کے مطابق اُن کی زندگیوں کو بدستور خطرات لاحق ہیں، اِس لیے وہ اپنی موجودہ رہائش اور مقام کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کریں گے۔ اختصاری کو ایرانی عدالت نے ننانوے ننانوے کوڑوں کے علاوہ ساڑھے گیارہ برس اور موسوی کو نو سال قید سنائی گئی تھی۔

Iran Fatemeh Ekhtesari Mehdi Mousavi

فاطمہ اختصاری اور مہدی موسوی

ڈاکٹر فاطمہ اِختصاری ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور مہدی موسوی ایک استاد ہیں۔ دونوں کو شعر و شاعری سے گہرا شغف ہے۔ ماہر اطفال فاطمہ اختصاری کو دسمبر سن 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں ساڑھے گیارہ برس کی سزا سنائی گئی۔ ادب اور شاعری پڑھانے والے مہدی موسوی کو نو برس کی قید کا حکم سنایا گیا تھا۔ اِن دونوں کو مجموعی طور پر ننانوے ننانوے کوڑے بھی مارے جانے کا حکم سنایا گیا تھا۔ اِن پر مختلف الزامات میں حکومت مخالف پراپیگنڈے اور ریاست کی مقدس علامات و نشانات کی تذلیل کرنا بھی شامل تھا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ مہدی موسوی اور اختصاری مغربی دنیا میں مقبول ہیں اور یہی اُن کا جرم ہے، بقیہ الزامات محض قصہ کہانی سے زیادہ نہیں ہیں۔ اسی مناسبت سے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ دونوں ادیب سزا سے بچتے ہوئے ایران سے فرار ہو کر ایک دوسرے ملک پہنچ گئے ہیں لیکن اُن لوگوں کا کیا ہو گا، جو ابھی بھی اپنے اشعار اور نثر میں تند و تیز لہجہ اختیار کرنے کے جرم میں پسِ زنداں ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے ایران میں آزادیٴ رائے کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کے تناظر میں جاری رکھے گئے کریک ڈاؤن پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ جوہری ڈیل کے مؤثر ہونے کے بعد ایران میں آزادئ رائے کی صورت حال بہتر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آزادئ رائے کی صورت بہتر نہیں ہو سکتی کیونکہ اعتدال پسند حلقے کو سخت عقیدے کی حامل مذہبی اشرافیہ کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ ایران میں ادیبوں اور شاعروں کی کتابوں کی اشاعت حکومتی سنسر پالیسی کے تحت کی جاتی ہے۔