1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سزا کے خلاف اپیل، اجمل قصاب کی درخواست

ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے مجرم اور پاکستانی شہری اجمل قصاب نے خود کو گزشتہ ماہ سنائی گئی سزائے موت کے خلاف اپیل سے قبل اپنے لئے ایک نئے وکیل کے تقرر کی درخواست کر دی ہے۔

default

2008ء میں ممبئی میں مختلف مقامات پر تقریبا بیک وقت کئے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کا اجمل قصاب وہ واحد زندہ مجرم ہے، جسے ممبئی ہی کی ایک عدالت نے مئی کے مہینے میں اس کے خلاف بہت سے الزامات ثابت ہو جانے پر کل نو مرتبہ موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق 22 سالہ اجمل قصاب نے، جو پاکستان میں کافی عرصہ قبل ممنوع قرار دی جا چکی عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کا رکن ہے اور اس وقت ممبئی کی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات والی آرتھر روڈ جیل میں بند ہے، ممبئی ہائی کورٹ کے لیگل ایڈ ڈیپارٹمنٹ کو تحریری طور پر درخواست کی ہے کہ وہ اپنے خلاف سزائے موت کے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے اسے ایک نیا وکیل صفائی مہیا کیا جائے۔

ایک بھارتی نجی ٹیلی وژن کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ کا یہ شعبہ اب اجمل قصاب کی درخواست پر غور کرتے ہوئے اس کے لئے ایک وکیل صفائی مقرر کرے گا، جس کے بعد سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت سے متعلق کارروائی شروع ہو سکے گی۔ اندازہ ہے کہ یہ ابتدائی کارروائی کم ازکم بھی دو ہفتوں میں مکمل ہو سکے گی۔

Flash-Galerie Anschläge Mumbai Indien 2008 Ajmal Kasab

اجمل قصاب کی ممبئی حملوں کے دوران لی گئی ایک تصویر

دو ہزار آٹھ میں ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں میں شہر کے ایک مرکزی ریلوے اسٹیشن، دو لگژری ہوٹلوں اور یہودیوں کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ان واقعات میں کل 166 افراد مارے گئے تھے۔

ساٹھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس خونریز کارروائی کے دوران بھارتی کمانڈوز نے نو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ اجمل قصاب وہ واحد ملزم تھا، جسے شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

رپورٹ : مقبول ملک

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM