1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سزا کے باوجود ڈیم یان یک کی رہائی

جرمنی کی ایک عدالت نے نازی دور کے ایک اذیتی کیمپ کے سابق گارڈ جان ڈیم یان یک کو پانچ سال قید کی سزا سنانے کے بعد اچانک رہا کر دیا ہے۔

default

ڈیم یان یک کی عمر اس وقت 91 سال ہے

عدالت کے مطابق ملزم ڈیم یان یک کی عمر اس وقت 91 سال ہے اور اسے ضعیف ہونے کی وجہ سے جیل نہیں بھیجا جا رہا۔ تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے اور ملزم کو سنائی جانے والی سزا پر قانونی عملدرآمد ابھی شروع نہیں ہوا۔

اس سے قبل عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید بتایا تھا کہ جان ڈیم یان یک پولینڈ میں موجود سابق نازی اذیتی کیمپ سوبیبور کا پہرہ دار تھا۔ اس کیمپ میں دوسری عالمی جنگ کے دوران 28 ہزار یہودیوں کو قتل کیا گیا تھا۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے یہ مقدمہ جنوبی جرمن شہر میونخ کی ایک عدالت میں زیر سماعت تھا۔

Polen Vernichtungslager Sobibor bei Lublin Denkmal

سوبیبور کیمپ میں دوسری عالمی جنگ کے دوران 28 ہزار یہودیوں کو قتل کیا گیا تھا

جب فیصلہ سنایا گیا تو یان یک بالکل خاموش بیٹھے رہے اور ان کی طرف سے کوئی بھی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ جب اس مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا تو یان یک ایک وہیل چیئر پر بیٹھے تھے۔

مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جج رالف آلٹ کا کہنا تھا کہ یان یک نازیوں کی ’تباہی کی مشین‘ کا ایک حصہ تھے۔

رالف آلٹ کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کو یقین ہے کہ یان یک نے 27 مارچ 1943ء سے وسط ستمبر 1943ء تک نازی اذیتی کیمپ سوبیبور میں حفاظتی گارڈ کے طور پر کام کیا تھا۔

فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت کی طرف سے یوکرائن میں پیدا ہونے والے یان یک سے پوچھا گیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہہ سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے اپنے مترجم کو کہا کہ وہ کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ اس مقدمے کے دوران وکیل صفائی کی طرف سے کی جانے والی یہ اپیل بھی مسترد کر دی گئی کہ فیصلے سے پہلے مزید ثبوت مانگے جائیں۔

جان ڈیم یان یک کا کہنا تھا، ’’ سن 1942ء تک ریڈ آرمی میں تھا کہ جرمن نازیوں نے گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد مجھے سکیورٹی گارڈ کے طور پر بھرتی کر لیا گیا تھا لیکن میری تعیناتی سوبیبور کیمپ پر نہیں ہوئی تھی۔‘‘

یان یک کا کہنا تھا کہ وہ 1945 میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے تک جنگی قیدی رہے اور بعد میں امریکہ ہجرت کر گئے اور وہاں ہی انہوں نے شادی کی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM