1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سزائے موت کے خلاف قصاب کی اپیل: فیصلہ اکیس فروری کو

ممبئی میں 2008 کے دہشت گردانہ حملوں کے واحد زندہ مجرم اجمل قصاب کے بارے میں ممبئی ہائی کورٹ نے آج پیر کو اعلان کیا کہ اس پاکستانی شہری کو سنائی گئی سزائے موت کے خلاف اس کی اپیل پر حتمی فیصلہ 21 فروری کو سنایا جائے گا۔

default

اجمل قصاب کو نومبر 2008 کے ان ہلاکت خیز حملوں کے سلسلے میں بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں ایک خصوصی عدالت نے مختلف الزامات ثابت ہو جانے پر گزشتہ برس چھ مئی کو چار مرتبہ سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

Ajmal Amir Kasab Mumbai

ممبئی ریلوے اسٹیشن پر حملے کے دوران لی گئی اجمل قصاب کی ایک تصویر

قانونی ماہرین کے مطابق یہ امکان کافی زیادہ ہے کہ ممبئی ہائی کورٹ خصوصی عدالت کی طرف سے اجمل قصاب کو سنائی گئی موت کی سزا بحال رکھے گی۔ گزشتہ برس اسی مقدمے میں قصاب کے دو ساتھیوں کو، جو بھارتی شہری ہیں اور جن کے نام فہیم انصاری اور صباح الدین شیخ ہیں، انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بری کر دیا تھا۔

اس پر مہاراشٹر کی صوبائی حکومت نے ان دونوں ملزمان کے بری کیے جانے کے خلاف اپیل دائر کر دی تھی۔ آج سات فروری کو ممبئی ہائی کورٹ نے جو اعلان کیا، اس میں ان ملزمان کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ایک اسپیشل کورٹ کی طرف سے ان کے بری کیے جانے کے خلاف اپیل پر فیصلہ بھی ٹھیک چودہ روز بعد 21 فروری کو سنایا جائے گا۔

اس اپیل کی سماعت کے دوران قصاب کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملزم کو سزائے موت کے بجائے عمر قید کا حکم سنایا جائے کیونکہ موت کی سزا پانے پر وہ اپنے ہم خیال لوگوں کی نظروں میں ’شہید‘ بن جائے گا۔ اس کے برعکس استغاثہ کا اصرار ہے کہ 166 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے ان حملوں میں اجمل قصاب کے مرکزی کردار کے پیش نظر اسے سزائے موت ہی دی جانی چاہیے۔

قصاب کو، جو اس وقت بھارت کی مختلف جیلوں میں قید اور خود کو سنائی گئی سزائے موت پر عملدرآمد کا انتظار کرنے والے کل 52 مجرموں میں سے ایک ہے، ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں ہی سے متعلق دیگر الزامات میں پانچ بار عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس