1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سزائے موت سے منشیات کی اسمگلنگ کم نہیں ہوتی، ایرانی عدلیہ

ایرانی عدلیہ کے ایک انکوائری بورڈ کی تحقیق کے مطابق مجرموں کو سزائے موت دینے سے منشیات کی اسمگلنگ کم نہیں ہوتی۔ بورڈ کے سربراہ کے مطابق ایسی سزاؤں کے باوجود ایران میں اسمگل کی جانے والی منشیات کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے۔

Iran Hinrichtung Archiv 2007

سزائے موت پانے والے اکثر ایرانی مجرموں کو سرعام پھانسی دی جاتی ہے

ملکی دارالحکومت تہران سے ہفتہ ستائیس اگست کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں منشیات کی روک تھام سے متعلق ریاستی کوششوں کے حوالے سے یہ نئے حقائق ملکی عدلیہ کے ایک انکوائری بورڈ کی رپورٹ کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے لکھا ہے کہ اس تفتیشی بورڈ کے سربراہ محمد باقر الفت نے جو نتائج پیش کیے ہیں، وہ ’آنکھیں کھول دینے والے‘ ہیں۔ باقر الفت نے کہا، ’’وہ متوقع نتائج جو ہم حاصل کرنا چاہتے تھے، حاصل نہیں ہو سکے۔ ایران میں اسمگل کی جانے والی منشیات کی اقسام اور مقدار اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی ہیں۔‘‘

محمد باقر الفت نے ’تسنیم‘ کو بتایا، ’’مجرموں کے لیے سزائے موت کا طریقہ کار مؤثر ثابت نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ سزائیں اسمگلروں کو دی جاتی ہیں، نہ کہ ان جرائم پیشہ عناصر کو جو پس منظر میں رہ کر یہ کاروبار کرواتے ہیں۔‘‘

الفت نے کہا، ’’منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کے سرغنوں کی حوصلہ شکنی کا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گرفتاری کی صورت میں انہیں طویل مدت کی قید کی سزائیں اور جبری مشقت کے حکم سنائے جائیں۔‘‘

Iran Vorbereitung öffentlicher Hinrichtung

ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک سزا یافتہ مجرم کو سرعام پھانسی دیے جانے کی تیاری

کئی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق ایران ہر سال دنیا بھر میں سب سے زیادہ مجرموں کو سزائے موت دینے والا ملک ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ 2015ء میں ایران میں 977 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ اس کے علاوہ اس سال اگست کے آخری دنوں تک وہاں جن مجرموں کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا، ان کی تعداد بھی 700 سے زائد بنتی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں منشیات کی اسمگلنگ یا کاروبار سے متعلقہ جرائم اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مقدمات میں مجرموں کو زیادہ تر موت کی سزا ہی سنائی جاتی ہے لیکن اب ملک میں اس حوالے سے شبہات مسلسل زیادہ ہوتے جا رہے ہیں کہ یہ سخت سزائیں بھی ایسے جرائم کے مرتکب افراد کی قبل از جرم حوصلہ شکنی کے لیے مددگار ثابت نہیں ہو رہیں۔

ایران میں منشیات کے اسمگلروں اور منشیات بیچنے والوں کو عدالتیں زیادہ تر اس لیے موت کی سزائیں سناتی ہیں کہ عدلیہ کی رائے میں ایسے مجرم ہزارہا نوجوانوں کی موت کی وجہ بنتے ہیں اور اسی لیے ان سے بہت سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔

DW.COM