1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سزائے موت دینے میں چین سب سے آگے

دنیا بھر میں 2007 کے مقابلے میں گذشتہ برس تقریبا دوگنے افراد کو سزائے موت دیں گئیں۔

default

Logo Amnesty International 2002


گذشتہ برس دنیا بھر میں کوئی 2 ہزار 390 افراد کو سزائے موت دی گئ اوراس سزا پر سب سے زیادہ عمل درآمد چین میں ہوا۔ عوامی جمہوریہ چین میں سال 2008 کے دوران تقریبا 17 سو افراد کو سزائے موت دیئے جانے کے واقعات سامنے آئے جو دنیا بھر کا 70 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ یہ انشکاف انسانی حققوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سزائے موت کے حوالے سے سالانہ رپورٹ میں کیا گیا۔


2007 کے مقابلے میں دنیا بھر ممیں سزائے موت دیئے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔2007 میں دنیا کے 24 ممالک میں 1252 افراد کی سزائے موت پرعمل درآمد ہوا تھا۔ اس سال بھی چین پہلے نمبر پر تھا، جبکہ ایران 346 کے ساتھ دوسرے ، سعودی عرب تیسرے ، پاکستان36 کے ساتھ چوتھے جبکہ 34 موت کی سزاؤں کے ساتھ امریکہ پانچویں نمبر پرتھا۔


ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سزائے موت کے انتظار کرنے والے بہت سے ملزموں کوغیرانسانی سلوک کا سامنا ہوتا ہے۔ جاپان میں تو جس دن سزائے موت دی جانی ہوتی ہے اس دن مجرم کو بتایا جاتا ہے جبکہ اس کے گھر والوں کو تو یہ خبر سزا پرعمل درآمد کے بعد ہی ملتی ہے۔


ایمنسٹی کے جرمنی میں سزائے موت کے خلاف کام کرنے والے اولیورہینڈرش کے مطابق موت کی سزا ایک سفاک اورغیر انسانی عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیٹکرک چیئر، پھانسی، گولی مارنا، سنگسارکرنا اورزہر کے انجیکشن کی اکسویں صدی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔


دنیا کے 138 ممالک میں موت کی سزا کا قانون یہ توتبدیل کردیا گیا ہے یہ پھراس پرعمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ گذشتہ برس ارجنٹائن اور ازبکستان نے اپنے ہاں سزائےموت کے قوانین کو تبدیل کرتے ہوئے اسے ختم کیا تھا۔ براعظم امریکہ میں صرف امریکہ وہ واحد ملک ہے کہ جہاں سزائے موت دی جاتی ہیں۔ لیکن گذشتہ برس امریکیہ میں بھی بہت کم لوگوں کو موت کی سزا دی گئی۔ جبکہ یوپر میں صرف سفید روس میں سزائے موت دی جاتیں ہیں۔


انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برلن میں بتایا کہ پچھلے سال کوئی دو ہزار چارسو افراد کو سزائے موت دی گئیں جو دنیا بھر میں سزائے موت دینے کے واقعات 2007 کے مقابلے میں تقریبا دوگنی ہے۔ تنظیم کے مطابق اولمپک مقابلوں کے انعقاد کے باوجود چین میں سب سے زیادہ موت کی سزا پرعمل درآمد ہوا۔ ایمنسٹی سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سزائے موت کے بہت سے ایسے واقعات ہیں جو سامنے نہیں آسکے ہیں۔