1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سزائے موت دینے میں چین سب سے آگے

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس چین میں موت کی سزا پر سب سے زیادہ عمل درآمد کیا گیا۔ انسانی حقوق اس بین الاقوامی ادارے نے چین میں موت کی سزا پانے والوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سن 2016 میں موت کی سزا دینے والے ملکوں کے بارے میں رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مقامی شہادتوں کی روشنی کہا جا سکتا ہے کہ سن 2016 میں چین کی مختلف جیلوں میں کئی ہزار مجرموں کو عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت پر عمل کیا گیا۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں چین میں موت کی سزا پانے والے مجرموں کی حتمی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔ اِس رپورٹ کے مطابق بقیہ دنیا کے تیئیس ملکوں میں 1,032 مجرموں کو عدالتی فیصلوں کے مطابق موت کی سزا پر عمل کیا گیا۔

ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ سن 2014 سے لیکر سن 2016 کے درمیانی عرصے میں مقامی شہادتوں کے مطابق چین میں 931 افراد کو موت کی سزا دی گئی تھی جبکہ مختلف جیلوں میں اندراج کے رجسٹر میں صرف 85 مجرموں کی تفصیل موجود ہے، جنہیں سزائے موت دی گئی تھی۔

Philippinen Unterhaus beschließt Rückkehr zur Todesstrafe | Protest (Reuters/R. Ranoco)

دنیا کے تیئیس ملکوں میں 1,032 مجرموں کو عدالتی فیصلوں کے مطابق موت کی سزا پر عمل کیا گیا۔

انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والے بین الاقوامی ادارے کے مشرقی ایشیا کے انچارج نکولس بیکولن کا کہنا ہے کہ چین کے اس دعوے کی تصدیق ممکن نہیں کہ عالمی اندازوں سے کہیں کم موت کی سزا پر عمل کیا جاتا ہے۔ بیکولن کا کہنا ہے کہ چین میں موت کی سزا پر کس حد تک عمل کیا جاتا ہے، اس مناسبت سے مکمل اعداد و شمار میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے بیجنگ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ درست ڈیٹا مہیا کرے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ چین کے قانونی حلقے بھی تائید کرتے ہیں کہ چین کی مختلف جیلوں میں ہر سال کئی سو مجرموں کو موت کی سزا دے دی جاتی ہے۔

چین میں کم از کم چھیالیس ایسے جرائم ہیں، جن کے ارتکاب پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ سزائے موت پانے والے مجرموں کا تعلق قتل کرنے کے جرم سے ہے۔ اس کے بعد راہ زنی اور منشیات فروشی ہے۔ چین میں کتنے غیر ملکیوں کو موت کی سزا دی جا چکی ہے، اس بارے میں بھی کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے۔

چین کے علاوہ ایران، سعودی عرب، عراق اور پاکستان ایسے ملک ہیں جہاں گزشتہ برس دنیا بھر میں دی جانے والی 1,032 میں سے 87 فیصد موت کی سزا پر عمل کیا گیا ہے۔ چین کی طرح ویتنام میں بھی موت کی سزا کے حوالے سے کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے لیکن وہاں بھی اس سزا پر عمل کیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پاس دنیا بھر میں گزشتہ چالیس سالوں کے دوران دی جانے والی موت کی سزا کے اعداد و شمار موجود ہیں۔