1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سری نگر میں کرفیو ختم لیکن جھڑپیں جاری

بھارتی حکام نے سری نگر میں گزشتہ سترہ دنوں سے نافذ کرفیو ختم کر دیا ہے تاہم بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے اس مرکزی شہر میں کشمیری مظاہرین اور پولیس کے مابین پرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے منگل چھبیس جولائی کے روز سری نگر میں اعلیٰ انتظامی اہلکار فاروق احمد لون کے حوالے سے بتایا، ’’آج چھبیس جولائی سے سری نگر کے کسی بھی علاقے میں کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہو گی۔‘‘

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کرفیو ختم کرنے کا مقصد مظاہرین کے غم و غصے کو وقتی طور دور کرنا ہے یا سری نگر میں اب دوبارہ کرفیو لگایا ہی نہیں جائے گا۔

سری نگر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز تاحال بندش کا شکار ہیں جبکہ جنوبی علاقوں میں ابھی تک کرفیو نافذ ہے، جہاں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران زیادہ تر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں سے جاری کشیدگی کی اس تازہ لہر کے نتیجے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اب تک کم از کم پچاس کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں۔

اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ آج چھبیس جولائی کے روز بھی سینکڑوں مشتعل مظاہرین سڑکوں پر نکلے، جنہوں نے نئی دہلی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور آزادی کا مطالبہ کیا۔

اس دوران ان مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات بھی ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس دوران بھارتی پولیس فورس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔

بالخصوص سری نگر میں منگل کو بھی اسکول، دوکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم دیکھی جا رہی ہے۔

کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں نے کہا ہے کہ ’بھارتی جارحیت‘ کے خلاف شروع ہونے والی اس ہڑتال کو آئندہ ہفتے کے دن تک جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے البتہ کہا ہے کہ دوکانیں صرف چند گھنٹوں کے لیے کھولی جائیں تاکہ مقامی لوگوں کو ضروریات زندگی کا سامان خریدنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد کا یہ تازہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا، جب آٹھ جولائی کو نوجوان باغی لیڈر برہان وانی بھارتی فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا۔ کشمیری مظاہرین اور پولیس فورس کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے باعث اب تک ہزاروں افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں متعدد باغی گروہ فعال ہیں، جن میں مقتول باغی رہنما برہان وانی کا ’حزب المجاہدین‘ نامی گروہ بھی شامل ہے۔ یہ باغی گروپ کشمیر کو بھارت سے آزادی دلانے اور اس کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خاطر کشمیر میں تعینات تقریباﹰ پانچ لاکھ بھارتی فوجی اہلکاروں کے خلاف گزشتہ کئی عشروں سے اپنی مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

علیحدگی پسندی کی اس تحریک میں اب تک لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی اس پورے متنازعہ علاقے پر اپنا اپنا حق جتاتے ہیں۔

DW.COM