1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سری لنکن اور افغان سیاسی پناہ کے مجاز نہیں: آسٹریلیا

آسٹریلیا نے سری لنکا اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے سیاسی پناہ کی تمام نئی درخواستوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

default

وزیربرائے مہاجرت کرس ایوانز نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان ممالک میں تبدیل ہوتی صورتحال کی بنا پر کیا گیا۔ کرس ایوانز نے کہا کہ اس اقدام سے انسانی سمگلنگ کا کاروبار کرنے والوں کو ایک واضح پیغام دیا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا میں داخلے کی کوشش کرنے والے افراد کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث کیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس آسٹریلوی اعلان کو ’ایک سیاسی قدم‘ قرار دیا ہے۔

جمعے کی شام آسٹریلوی بحریہ نے ایک کشتی پکڑی تھی، جس کے ذریعے 70 افراد غیر قانونی طور پر آسٹریلیا میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ 2007ء سے اب تک آسٹریلیا ایسی 100 سے زائد کشتیاں حراست میں لے چکا ہے۔ آسٹریلیا میں غیر قانونی طور پر داخلے کی کوشش کرنے والے افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق سری لنکا اور افغانستان سے ہے۔

Ausschreitungen Griechenland Asylbewerber

آئدنہ حراست میں لئے جانے والے افراد کو سیاسی پناہ کی درخواست دائر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی

سری لنکن اور افغان شہریوں کے لئے سیاسی پناہ کی ویزہ درخواستوں کی معطلی کے اس اعلان کو حکومت پر اس اندرونی دباؤ سے بچ نکلنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے، جس میں اسے شدید نکتہ چینی کا سامنا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت اس اقدام سے رواں برس انتخابات میں اپنی کامیابی کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔

کرس ایوانز نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سخت ترین فیصلے کی وجہ انسانی سمگلنگ کی روک تھام اور آسٹریلیا میں مہاجرت کے قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیوی بحریہ کشتی کے ذریعے ملک میں داخلے کی کوشش کرنے والوں کو سرحدی حدود سے دور نہیں کریں گے، بلکہ کرسمس جزائر پر قائم حراستی مرکز لے جایا جائے گا۔ تاہم یہ افراد سیاسی پناہ کے لئے درخواست کے اہل نہیں ہوں گے۔

حکومتی بیان کے مطابق سری لنکا کی صورتحال پر اگلے تین ماہ میں جبکہ افغانستان پر اگلے چھ ماہ میں نظر ثانی کی جائے گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے : ’’آسٹریلوی حکومت ایسا کیوں سمجھتی ہے کہ سیاسی پناہ نہ دینے سے سلامتی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : کشورمصطفیٰ

DW.COM