1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سری لنکا کے پارلیمانی الیکشن: حکمران اتحاد کی کامیابی

سری لنکا کے صدر راجا پاکسے کا حکمران اتحاد پارلیمانی الیکشن میں خاصی بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔ راجا پاکسے صدر کا الیکشن اس سال جنوری میں جیت چکے ہیں۔

default

سری لنکا کے پارلیمانی الیکشن میں صدر راجا پاکسے کے حکمران اتحاد یونائیٹڈ پیپلز فریڈم الائنس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اِس کی تصدیق الیکشن کمیشن نے بھی جاری کردی ہے۔ یہ اتحاد دو سو پچیس نشستوں پر مبنی ایوان کے لئے اب تک 117 پر کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ مرکزی اپوزیشن جماعت یونائیٹڈ نیشنل فرنٹ کو 46 سیٹیں حاصل ہو ئیں ہیں۔ تامل پارٹی کو بارہ اور سابق آرمی چیف فونیسکا کو پانچ سیٹیں ملی ہیں۔

یونائیٹڈ پیپلز فریڈم الائنس کے ترجمان ڈلس الہا پیروما کا کہنا ہے کہ اُن کو امکانی طور پر دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ راجا پاکسے کے وزیر ٹرانسپورٹ نے مزید بتایا کہ اُن کا اتحاد دوتہائی ہدف سے صرف بارہ سیٹوں سے محروم ہو سکتا ہے۔ تاہم ترجمان نے کامیابی کو یقینی قرار دیا ہے۔ سری لنکا کے صدر کو یقین ہے کہ اُن کا اتحاد دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔

Sarath Fonseka

سابق آرمی چیف فونیسکا کی جماعت کوپانچ سیٹیں ملی ہیں۔

سری لنکا کے صدر کے اتحاد کی کامیابی میں اُن کی گزشتہ سال کئی عشروں چلنے والی تامل ٹائیگرز کی علیحدگی پسند تحریک کے خلاف جنگ میں مکمل فتح نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اِس جیت سے سری لنکا کی سنہالی عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے اور یہ اُن کے ملک کے لئے کئی پہلووں سے سود مند بھی ہے۔ اِس کامیابی کے حوالے سے راجا پاکسے اپنے ملک کے انتخابی قوانین میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔ اپوزیشن البتہ اِن تبدیلییوں کی مخالفت کرتی ہے۔

سری لنکن صدر کا کہنا ہے کہ وہ اگلے چھ سالوں میں ملکی اقتصادیات کو انتہائی اعلیٰ خطوط پر استوار کردیں گے۔ راجا پاکسے اگلے چھ سالوں میں بیالیس ارب ڈالر کے اقتصادی حجم کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ اندازہ بھی لگایا گیا ہے کہ ان انتخابات سے سری لنکا میں سیاسی عمل مزید بہتر انداز میں آگے بڑھ سکے گا۔

حکمران اتحاد ایک 138 نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ کامیاب امیدواروں میں صدر راجا پاکسے کے بیٹے نمل پاکسے اور ممتاز کرکٹر سنتھ جے سوریا نمایاں ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق کینڈی کے قدرے پہاڑی علاقے کی 12 سیٹوں سمیت 16 انتخابی حلقوں کے نتائج مؤخر کر دیئے گئے ہیں۔ ایک انتخابی حلقے میں پرتشدد واقعات کے بعد دوبارہ پولنگ کا حکم دیا گیا ہے۔ سری لنکا کی سٹاک مارکیٹ میں بھی حکومت کے حق میں نتائج آنے سے انتہائی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM