1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سری لنکا کے صدارتی انتخابات، جیت کے دعوے

سری لنکا کے صدارتی انتخابات میں مضبوط حریف امیدوار اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔ ابتدائی انتخابی رجحان میں صدر راجا پاکسے اپنے مدمقابل جنرل ریٹائرڈ سراتھ فونسیکا سے بہت آگے دکھائی دے رہے ہیں۔

default

سری لنکا کے ان صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان ستائیس جنوری بروز بدھ متوقع ہے۔ الیکشن میں ووٹر ٹرن آوٴٹ سترفی صد سے زائد رہا۔ انتخابات میں صدر مہیندا راجا پاکسے اور ملک کے سابق آرمی چیف جنرل سراتھ فونسیکا کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ دونوں ہی اپنی اپنی کامیابی کے حوالے سے پراعتماد نظر آرہے ہیں۔

جنوبی سری لنکا میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد صدر راجا پاکسے نے رپورٹرز کو بتایا:’’ہم کامیاب ہوں گے اور یہ کامیابی شاندار ہوگی۔‘‘ راجا پاکسے کے مضبوط ترین حریف جنرل ریٹائرڈ سراتھ فونسیکا اپنی رائے دہی کا حق استمعال نہیں کر سکے۔’’میرا نام سن 2008ء کے ووٹر لسٹ میں شامل ہی نہیں ہے، اس لئے میں ان انتخابات میں اپنا ووٹ نہیں ڈال سکا۔‘‘ فونسیکا نے راجا پاکسے کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا کہ ’’وہ اس بات کے ذریعے سری لنکن عوام کو گمراہ کرنا چاہتی ہے۔‘‘

تاہم خودمختار الیکشن کمشنر دایا نندا دسا نایکے نے کہا کہ ووٹر فہرست میں فونسیکا کا نام شامل نہ ہونے کے باوجود وہ صدارتی عہدے کے لئے امیدوار رہ سکتے ہیں۔’’الیکٹورل لسٹ میں نام نہ ہونے کے باعث کسی سے صدارتی عہدے کے لئے امیدوار رہنے کا حق نہیں چھینا جا سکتا۔‘‘

سرکاری حکام کے مطابق تشدد کے اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر انتخابی عمل مجموعی طور پر پُرامن رہا۔ سری لنکن شہر جافنا میں معمولی نوعیت کے چھ بم دھماکے ہوئے۔ انتخابات کے پر امن انعقاد کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ تقریباً اڑسٹھ ہزار پولیس اہلکار پولنگ مراکز کی حفاظت پر مامور تھے۔

Sri Lanka Wahl Schlange stehen

پولنگ کا عمل مجموعی طور پر پرامن رہا

حکام کے بقول منگل، چھبیس جنوری کے صدارتی الیکشن میں ستر فی صد سے زائد رائے دہندگان نے اپنا قیمتی ووٹ استعمال کیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں تامل اور مسلم اقلیت کے ووٹ انتخابی نتائج کے رخ کا تعین کر سکتے ہیں۔

باغی تامل ٹائیگرز کی مسلح تحریک کے خاتمے کے بعد سری لنکا میں یہ پہلے صدارتی انتخابات تھے۔ گزشتہ برس مئی میں سری لنکن فوج نے ایک بڑے آپریشن کے نتیجے میں 25 سالہ مسلح تامل تحریک کو کچلنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس آپریشن کی ’کامیابی‘ کے لئے صدر راجا پاکسے اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل سراتھ فونسیکا کی کوششوں کو سراہا گیا۔ تاہم اقوام متحدہ کے محتاط اندازوں کے مطابق مسلح باغی تنظیم ’لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام‘ یا LTTE کے خلاف فوجی آپریشن میں کم از کم ’دس ہزار تامل شہری بھی مارے گئے۔‘

اپنی رائے دہی کا حق استعمال کرنے والے ایک ووٹر نے بتایا:’’تیس سالہ خانہ جنگی کے بعد اب آگے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، بہتر مستقبل کی امید لئے ہمیں اپنے ملک سری لنکا کی ترقی اور بہبود کے لئے کام کرنا ہوگا۔‘‘

Flash-Galerie Sri Lanka

انتخابات کے موقع پر ملک بھر میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے

صدر راجا پاکسے گزشتہ چار دہائیوں سے سیاست کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ وکیل کی تربیت حاصل کرنے والے راجاپاکسے سن 1970ء میں سری لنکن پارلیمان میں سب سے کم عمر رکن بنے۔ سن 2005ء میں وہ پہلی مدت کے لئے صدارتی عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کا تعلق جنوبی سری لنکا سے ہے۔ وہ سنہالیس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔

راجا پاکسے کے صدر بننے کے وقت سری لنکن حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان فائر بندی کا ایک ’غیر یقینی اور مبہم‘ معاہدہ چل رہا تھا۔ تامل علٰیحدگی پسندوں کے ساتھ امن مذاکراتی عمل کی ناکامی کے بعد راجا پاکسے نے سن 2006ء میں اپنے بھائی گوتابایا راجا پاکسے کے ساتھ مل کر تامل ٹائیگرز کو مکمل شکست دینے کے لئے ایک منصوبہ تیار کیا۔

بعض تجزیہ نگاروں کی رائے میں راجا پاکسے کے دوسری بار صدر بننے کے امکانات کافی روشن ہیں۔ ان تجزیہ نگاروں کی دلیل یہ ہے کہ بیشتر سنہالیس ووٹرز سمجھتے ہیں کہ راجا پاکسے کی کوششوں کی وجہ سے ہی ملک میں پچیس سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ممکن ہو سکا۔ تاہم راجا پاکسے پر متعدد الزامات میں سے ایک الزام اقربا پروری کا بھی ہے۔ صدر راجا پاکسے کے تین بھائی سری لنکن حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

لیکن بیشتر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تامل باغیوں کے خلاف آپریشن کے بعد ملک میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، جس سے بہت سارے شہریوں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ آپریشن میں تامل شہریوں کی ہلاکتوں کے باعث تامل ووٹرز راجا پاکسے سے ناراض بھی ہیں۔ ان سب باتوں کا فائدہ راجا پاکسے کے سب سے مضبوط حریف جنرل ریٹائرڈ سراتھ فونسیکا کو ہو سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار جہان پریرا کولمبو میں قائم تھنک ٹینک ’نیشنل پیس کونسل‘ کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’تاملوں نے علٰیحدگی پسند سیاست کو خیر باد کہتے ہوئے مین سٹریم سیاست میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا ہے، کم از کم ان انتخابات میں۔ ملک کے بہتر مستقبل کے لئے یہ ایک اچھی بات ہے۔‘‘ جہان پریرا کے مطابق راجا پاکسے سے بعض حکومتی حلقے بھی ناراض ہیں کیونکہ صدر کے تین بھائی انتخابات میں ان کی کامیابی کے لئے پردے کے پیچھے کام کر رہے ہیں۔’’اقربا پروری کے علاوہ راجا پاکسے پر بدعنوانی کے سنگین الزامات بھی ہیں۔ راجا پاکسے کو اپنی ساکھ بہتر کرنے کے لئے تمام خدشات کو دور کرنا ہوگا۔‘‘

سری لنکا میں صدارتی الیکشن سے قبل متعدد پرتشدد واقعات میں پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ انتخابی مہم ہفتہ کے روز اپنے اختتام کو پہنچی۔ منگل، چھبیس جنوری کو انتخابات منعقد ہوئے جبکہ نتائج کا اعلان بدھ، ستائیس جنوری کو کیا جائے گا۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM