1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سری لنکا کے تامل شہری: بھارت کے عام انتخابات کا نیا موضوع

بھارت کے حالیہ عام انتخابات میں تامل ناڈو‘ آندھراپردیش‘ بہار اوراترپردیش ایسی ریاستیں ہیں جن کے نتائج کا آئندہ حکومت کے قیام میں بڑی حد تک عمل دخل ہو گا ۔

default

بھارت میں عام انتخابات کے دوران بالعموم غربت‘ ناخواندگی‘ بے روزگاری اور بیماری جیسے مسائل انتخابی موضوعات بننے کے بجائے دیگر جذباتی موضوعات اہم جگہ حاصل کرلیتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی ایسے ہی ایک معاملے نے کانگریس پارٹی کی قیادت والی حکمراں متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے لئے مصیبت پیدا کردی ہے۔

یہ مسئلہ ہے پڑوسی ملک سری لنکا میں رہنے والے تامل باشندوں کا۔ دراصل بھارت کے حالیہ عام انتخابات میں تامل ناڈو‘ آندھراپردیش‘ بہار اور اترپردیش ایسی ریاستیں ہیں جن کے نتائج کی بناء پرآئندہ حکومت کے قیام کا بڑی حد تک دارومدارہے۔

ایسے میں جنوبی ریاست تامل ناڈو میں سری لنکا میں رہنے والے تامل باشندوں کے معاملے نے حکمراں متحدہ ترقی پسند اتحاد کو پریشانیوں میں ڈال دیا ہے۔ گذشتہ 2004 کےعام انتخابات میں تامل ناڈو اور اس کی ہمسایہ ریاست پانڈے چری کی تمام کی تمام چالیس لوک سبھا سیٹیوں پرمتحدہ ترقی پسند اتحاد نے قبضہ کیا تھا اور ریاست کی حکمراں ڈی ایم کے پارٹی کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے اس مرتبہ بھی وہ کافی پرامید ہے لیکن سری لنکا میں تامل باغیوں بالخصوص ایل ٹی ٹی ای کے خلاف حکومت کی طرف سے جاری فوجی کارروائی کی وجہ سے اس کی امیدوں پر پانی پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔

دراصل سری لنکا کے تاملوں کا مسئلہ تامل ناڈو میں ہمیشہ سے جذباتی معاملہ رہا ہے اور سیاسی جماعتیں اس سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ حالانکہ بھارت ایل ٹی ٹی ای کو ممنوعہ تنظیم قرار دیتا ہے اور تامل ناڈو کے وزیراعلی کروناندھی نے بھی ایل ٹی ٹی ای کی کبھی حمایت نہیں کی لیکن الیکشن کے مدنظر انہوں نے سری لنکا کی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ایل ٹی ٹی ای کے سربراہ پربھاکرن کے ساتھ احترام سے پیش آئے۔ لیکن تامل ناڈو کی ایک علاقائی پارٹی ایم ڈی اے کے کے رہنما وائےکو نے سب کو مات دے دی۔ انہوں نے اس معاملے کواس وقت ایک نیا رخ دے دیا جب انہوں نے اپنی ایک انتخابی تقریرکے دوران کہا کہ اگر پربھاکرن کو سری لنکا میں ذرا بھی نقصان پہنچا تو تامل ناڈو میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ اس بیان پر پولیس نے ان کے خلاف ملک سے غداری کا ایک مقدمہ درج کرلیا ہے۔ جب کہ بی جے پی سمیت دیگر پارٹیوں نے بھی اس بیان کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔ بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے سوال کیا کہ آخر تامل ناڈو میں کس کس خون کی ندیاں بہیں گی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس وقت جب کہ ملک میں انتخابات ہورہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں امن و سکون کا ماحول رہے اور تمام سیاسی لیڈروں کو چاہئے کہ وہ اپنی تقریروں کے دوران اعتدال کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیں۔

خیال رہے کہ وائی کو کی پارٹی ایک وقت بی جے پی کی قیادت والی قومی جمہوری محاذ (این ڈی اے) میں شامل تھی لیکن اس نے اب اس سے اپنا ناطہ توڑ لیا ہے۔ وائیکو نے کہا کہ تامل ناڈو میں رہنے والے ہر تامل کے دل میں ایل ٹی ٹی ای کے رہنما پربھاکرن کے لئے خصوصی جگہ ہے اور وہ پربھاکرن اور سری لنکا کے تاملوں کے لئے جیل بھی جانے کو تیار ہیں۔ وائیکو نے کہا کہ حکومت ان کے خلاف صرف سےاسی اغراض کی بنا پر معاملہ دائر کیا ہے۔سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے یہاں کوئی بھی سیاسی جماعت ایل ٹی ٹی ای کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف اس طرح کھل کر بولنے سے گھبراتی ہے جس طرح وہ جموں و کشمیر یا شمال مشرقی ریاستوں کے انتہاپسندوں کے بارے میں کھل کر بولتی ہیں۔

نائب وزیرخارجہ آنند شرما نے کہا کہ اس معاملے پرحکومت کا موقف بالکل واضح ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جائے اور تامل شہری اور ایل ٹی ٹی ای بالکل الگ الگ مسئلے ہیں۔ بی جے پی نے بھی اس موقف کی حمایت کی ہے۔ تاہم اس نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ سری لنکا کے ساتھ تامل شہریوں کے معاملے کو فوراََ اٹھائے تاکہ سرکاری فوج اور ایل ٹی ٹی ای کے درمیان جاری لڑائی کا خمیازہ بے گناہ شہریوں کو بھگتنا نہ پڑے۔