1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سری لنکا نے سابق جنگی علاقے سیاحوں کے لیے کھول دیے

سری لنکا نے سابق جنگی علاقوں میں سفر کے لیے غیرملکی سیاحوں پر عائد پابندیاں نرم کر دی ہیں۔ کولمبو حکام نے یہ فیصلہ علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز کی شکست کے دو برس بعد کیا ہے۔

default

حکومت کے اس اعلان کے بعد اب غیرملکیوں کو شمالی علاقوں کا دورہ کرنے کے لیے وزارت دفاع کی طرف سے کلیئرنس کی ضرورت نہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سری لنکا کے محکمہ اطلاعات نے ایک بیان میں کہا ہے: ’’وزارت دفاع نے شمالی علاقوں کو جانے والے غیرملکی پاسپورٹ رکھنے والوں پر عائد سفری پابندیاں فوری طور پر اٹھا لی ہیں۔‘‘

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ نئے قوانین سری لنکن نژاد ان غیرملکی شہریوں پر بھی اثر انداز ہوں گے، جو اپنے آبائی تامل علاقوں کو لوٹنا چاہتے ہیں۔

غیرملکی صحافیوں، سیاحوں اور امدادی اداروں کے کارکنوں کو لڑائی کے دوران شمالی علاقوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی یہ پابندیاں برقرار رکھی گئی تھیں۔ تاہم صحافیوں کو ان علاقوں کا دورہ کرنے کے لیے ابھی تک خصوصی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

محکمہ اطلاعات کے مطابق نئے قوانین اکنامک ڈویلپمنٹ منسٹر باسل راجاپاکسے اور شمال کے تاجر رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد نافذ کیے گئے ہیں۔

ان علاقوں میں باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان سالوں جاری رہنے والی لڑائی کے باعث ہزاروں تامل باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

Flüchtlingslager in Sri Lanka PANO

جنگ کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے

حکومتی فورسز نے مئی 2009ء میں تامل باغیوں کو شکست دے کر طویل عرصے تک جاری رہنے ولی نسلی جنگ کو ختم کر دیا تھا۔ حتمی لڑائی کے دوران ’نو فائر‘ زون میں فوج کی بمباری میں شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں پر کولمبو حکومت کو عالمی تنقید کا سامنا بھی رہا۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2009ء میں تامل باغیوں کے خلاف سری لنکا کی حتمی فوجی کارروائی کے دوران کم از کم سات ہزار شہری ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے برعکس ہیومین رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس لڑائی کےدوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل شہری ہلاکتوں کی تعداد دس ہزار سے زائد بتاتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM