1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سری لنکا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ جوں کا توں

سری لنکا میں خانہ جنگی ختم ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ تامل باغیوں اور سنگہالی حکومت دونوں پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات ہیں۔

default

تامل باغیوں کی سری لنکا سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد ربع صدی سے زائد جاری رہی۔ اس دوران خانہ جنگی کے آخری تین سال انتہائی سخت تھے۔گزشتہ برس مئی میں سری لنکن آرمی آخر کار تامل باغیوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئی۔ جیسا کہ مسلح تنازعات میں ہوتا ہے، یہاں بھی شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس لڑائی کی چکی میں پس کر رہ گئی۔ فوج اور باغیوں دونوں پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کئے گئے۔ تاہم سرکاری سطح پر اس موضوع پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن سری لنکا کے شمال میں خانہ جنگی کا شکار ہونے والے تامل باشندوں کے ذہنوں میں یہ خلاف ورزیاں ابھی بھی تازہ ہیں۔

Sri Lanka Flüchtlinge Binnenflüchtlinge Bürgerkrieg internally displaced people

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق خانہ جنگی کے آخری ہفتوں کے دوران سات ہزار افراد ہلاک ہوئے

یہ بات مئی 2009ء کی ہے، جب سری لنکن فوج نے ملک کے شمالی حصے میں تامل باغیوں کی مذاحمت کا مکمل طور پر صفایا کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے سری لنکا کے صدر مہندا راجاپاکشے ہر سرکاری تقریب میں اپنی ترجیحات کو دہراتے ہیں۔ ان کے بقول ماضی میں دیکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اب اولین ذمہ داری یہ ہے کہ ملک میں مختلف نسلی گروپوں یعنی تامل اور سنگہالیوں کے درمیان مسائل کو ختم کرایا جائے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق خانہ جنگی کے آخری ہفتوں کے دوران سات ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے برعکس ہنگامی امداد کے بین الاقوامی ادارے نے مرنے والوں کی تعداد تیس ہزار بتائی ہے۔ کولمبو حکومت ان واقعات کی بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی طرف سے چھان بین کروانے کے مطالبے کو رد کرتی آ رہی ہے۔

تامل باغیوں نے اس لڑائی کو اتنے قریب سے دیکھا اور جھیلا ہے کہ ان کے دلوں پر آج بھی اس خانہ جنگی کے نقوش موجود ہیں۔

Sri Lanka Wahlen Präsident Mahinda Rajapaksa wiedergewählt

سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکشے بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کے حق میں نہیں ہیں

ایک تامل خاتون کے بقول یہ واقعات اب ان کی زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ گزشتہ تین جنگوں کے دوران اس کا خاندان ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتا رہا۔ وہ فوج اور باغیوں کے درمیان بھی پھنس گئے تھے۔ اس دوران جب وہ سری لنکا کی فوج کی جانب سے قائم کئے گئے ’نو فائر زون‘ پہنچے لیکن وہاں ان پر دستی بم برسائے گئے، جس سے پچاس افراد زخمی اور اٹھائیس ہلاک ہوئے۔

یہ کسی ایک تامل باشندے کی کہانی نہیں ہے۔ خانہ جنگی کے آخری مراحل میں ایسے بہت سے واقعات پیش آئے، جن میں دونوں جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔ یورپی یونین نے دھمکی دی ہے کہ اگر کولمبو حکومت نے ان پامالیوں کی تحقیقات نہ کرائیں، تو اس صورت میں اس کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ ختم کر دیا جائےگا، جس سے سری لنکا کو سو ملین یورو تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود بھی کولمبو حکومت کے رویے میں نرمی نہیں آ رہی اور حکومت کی جانب سے ایک مصالحتی کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت: کشور مُصطفی