1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سری لنکا :جھڑپوں میں بیسیوں افراد ہلاک

سری لنکا میں گذشتہ چند روز سے جاری شدید جھڑپوں میں اب تک بیسیوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوجی دعووں کے مطابق تامل باغیوں کے زیر قبضہ ایک اہم شہر پر قبضہ کر لیا گیا ہے اوردوسرے علاقوں پر کنٹرول کے لئے جھڑپیں جاری ہیں۔

default

سری لنکا میں فوج نے ملکی دارالحکومت کے شمال میں واقع اور تامل علیحدگی پسندوں کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے شہر مل لوی پر شدید لڑائی کے بعد قبضہ کر لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں ہونے والی خونریز لڑائی میں کم از کم 59 افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم ان ہلاکتوں کی غیر حکومتی ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، کیونکہ نامہ نگاروں کو لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے، اور تامل چھاپہ مار بھی یہ دعوے کررہے ہیں کہ مل لوی پر قبضے کی کوشوں کے دوران کئی سرکاری فوجی بھی مارے گئے۔

سری لنکا میں خانہ جنگی کے خاتمے کی بڑی امیدیں اس وقت پیدا ہوئی تھیں جب

ماضی میں، کولمبو حکومت اور تامل ٹائیگرز کے مابین فائر بندی معاہدہ طے پایا تھا۔ مگر سال رواں کے آغاز پر حکومت نے نہ صرف اس معاہدے کو ختم کردیا بلکہ فوج کو، بدامنی سے متاثرہ علاقوں میں بہتراور نتیجہ خیز کارروائیوں کے قابل بنانے کے لئے 1.5 ارب ڈالربھی مختص کردیئے، اس ہدف کے اعلا ن کے ساتھ کہ موجودہ سال ختم ہونے سے پہلے ہی ملک میں، لبریشن ٹائیگرز آف تامل اِیلام کے باغیوں کا صفایہ کردیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کے بقول، مل لوی کی جانب پیش قدمی کے دوران تامل ٹائیگرز نے کافی مزاحمت کی ، جس دوران دس چھاپہ مار ہلاک اور تیس کے قریب فوجی زخمی بھی ہوئے۔ مل لوی پر سرکاری دستوں کے کنٹرول کا خاص پہلو یہ ہے کہ کولمبو سے 290 کلو میٹر مشرق کی طرف یہ علاقہ تامل ٹائیگرزکی عسکری طاقت مرکز سمجھا جاتا تھا، کیونکہ پورے ملک میں باغیوں کو سامان کی فراہمی اسی علاقے سے ہوتی تھی۔

دیگر رپورٹوں کے مطابق، تامل تائیگرز نے مل لوی سے مغرب کی طرف واقع علاقے ناچھی کُدہ میں بھی ایک بڑی جھڑپ کے دوران 45 فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ فوجی ذرائع کے، باغیوں کے ان دعووں سے متضاد بیانات کے مطابق، ان جھڑپوں کے دوران فوج کو فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی، اور ناچھی کُدہ کے بندرگاہی شہر میں زمینی دستوں کے ساتھ جھڑپوں اور فضائیہ کی بمباری میں کُل 42 عسکریت پسند ہلاک کر دیئے گئے۔