1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سری لنکا: باغیوں کے خلاف آپریشن

سری لنکا نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے شورش زدہ شمال مشرقی علاقے میں باغیوں کے خلاف جاری لڑائی اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے۔

default

چند روز قبل تامل ٹائیگرز کے مرکز پر بھی حکومتی فورسز نے قبضہ کر لیا تھا

لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام کے زیرانتظام آخری علاقے کا کنٹرول واپس حاصل کر لیا گیا ہے اور لڑائی صرف جنگلوں میں جاری ہے۔

"جہاں تک ملائیتیوو کا تعلق ہے، یہ باغیوں کے زیرانتظام آخری علاقہ تھا۔ اب سری لنکن فوج کے 59th ڈویژن نے ملائیتیو کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔"

سری لنکا کے حکومتی ترجمان Keheliya Rambukwella کا یہ بیان حکومت کے اس یقین کا آئینہ دار ہے کہ ایل ٹی ٹی ای کے باغیوں کے خلاف گزشتہ 25 برس سے جاری لڑائی میں حکومت کی جیت اب قریب ہی ہے۔ فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سارتھ فونسیکا کا کہنا ہے باغی صرف 300 مربع کلومیٹر کے علاقے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑائی تقریبا ختم ہو چکی ہے۔

فوجی ترجمان اُدھے نانایاکر کے مطابق فوج جنگل کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ لڑائی آخری مرحلے میں ہے جس میں 50 ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں جبکہ بحریہ بھی اس لڑائی میں شامل ہے۔

امدادی تنظیموں کے مطابق لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں ابھی تک عام شہری پھنسے ہوئے ہیں جن کی تعداد دولاکھ 30 ہزار ہے۔ تاہم لیفٹیننٹ جنرل سارتھ فونسیکا کہتے ہیں کہ صرف ڈیڑھ لاکھ افراد متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہیں۔ تامل باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ لڑائی میں فوج کی شیلنگ سے 100 شہری مارے جا چکے ہیں۔ تاہم فوج نے باغیوں کے بیان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ باغی شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ سری لنکا کے سابق آرمی کمانڈر جنرل جیری ڈی سلوا کہتے ہیں: "متاثرہ علاقوں میں متعدد شہری پھنسے ہیں، اور اگر باغی شہریوں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں تو فوج کو بہت محتاط رہنا ہوگا۔ اس لڑائی کا ایک اہم مقصد شہریوں کو آزاد کرانا بھی ہے۔"

سری لنکا میں اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر نیل بوھنے کا بھی یہی کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی میں متعدد شہری ہلاک ہو چکے ہیںِ۔اُدھر متاثرہ علاقوں سے بچ نکلنے والے شہریوں نے صحافیوں کو بتایا کہ باغی شہریوں کو علاقہ چھوڑنے سے روک رہے ہیں۔ حقوق انسانی کی تنظمیں پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ باغی شہریوں کو متاثرہ علاقوں میں روکے ہوئے ہیں جبکہ ایل ٹی ٹی ای ان بیانات کی تردید کی ہے۔

سری لنکا کے صدارتی ترجمان نے گزشتہ دنوں شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بحران زدہ علاقوں سے نکل جائیں۔ فوج نے شہریوں کو ایک مخصوص علاقے میں منقتل ہونے کی ہدایت کی تھی جہاں سے انہیں زیادہ محفوظ مقامات پر منتقل کیا جانا تھا۔

فوج نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ باغیوں کے سربراہ پربھاکرن ملک چھوڑ چکے ہیں اور غالبا کسی جنوب مشرقی ایشیائی ملک چلے گئے ہیں۔ سری لنکن فوج نے2007 میں ملک کے شمالی علاقے کا کنٹرول باغیوں سے لے لیا تھا، پھر بھی وہاں وقفے وقفے سے فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ تامل باغیوں اور فوج کے درمیان 1983 سے جاری اس لڑائی میں اب تک 70 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔