1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سریبرینیتسا ميں مسلمانوں کے قتل عام کی جزوی ذمہ داری رياست پر‘

ہالينڈ ميں مقدمات کے فيصلوں پر دائر کردہ اپيلوں پر کارروائی کرنے والی ايک عدالت کے مطابق 1995ء ميں 350 مسلمانوں کے قتل عام کی جزوی ذمہ داری رياست پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے حکومت کو زر تلافی ادا کرنے کا بھی کہا ہے۔

دی ہيگ ميں عدالت کا فيصلہ سناتے وقت جج گيپکے ڈوليک نے کہا، ’’عدالت اس نتيجے پر پہنچی ہے کہ رياست نے غير قانونی انداز ميں کام کيا۔‘‘ منگل کے روز اس فيصلے ميں بنيادی طور پر سن 2014 کے فيصلے کی ہی توثيق کی گئی، جسے ايک زيريں عدالت نے سنايا تھا اور جس کے خلاف اپيل دائر کی گئی تھی۔ جج نے فيصلہ سناتے وقت مزيد کہا، ’’بوسنيا کے سربوں کی جانب سے مسلمان لڑکوں و مردوں کو عليحدہ کيے جاتے وقت اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ انہيں غير انسانی سلوک يا ہلاک کر ديے جانے کا سامنا ہے اور ڈچ امن مشن کے ارکان اس سے واقف تھے۔‘‘ جج کے مطابق پناہ گزينوں کی قطاروں سے مسلمان لڑکوں اور مردوں کو عليحدہ کرنے کے عمل ميں ڈچ فوجيوں نے مدد بھی فراہم کی تھی۔ منگل کو سامنے آنے والے فيصلے کے مطابق اس سلسلے ميں زر تلافی کے کسی بھی سمجھوتے کا تيس فيصد ہالينڈ کی حکومت ادا کرے گی۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد يورپ کے سن 1995  کے بد ترين مسلح تنازعات ميں  کے دوران آٹھ ہزار مسلمان مردوں کا قتل عام کيا گيا تھا۔ يہ مخصوص واقعہ اس سال تيرہ جولائی کا ہے جب بوسنيا سے تعلق رکھنے والی سرب افواج کافی محدود اسلحے سے ليس اور ہزاروں پناہ گزينوں کے ايک اقوام متحدہ کے کيمپ کی حفاظت پر مامور ہالينڈ کے امن دستوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھ گئی تھيں۔ تقريباً ساڑھے تين سو مسلمانوں کو ديگر پناہ گزينوں کے ساتھ لے جا کر ہلاک کر ديا گيا تھا۔ ہالينڈ کی حکومت اور متاثرين کے لواحقين، دونوں ہی کی جانب سے سن 2014 کے اس فيصلے کے خلاف اپيل دائر کی گئی تھی، جس کے مطابق رياست ان اموات کی ذمہ دار تھی۔

سریبرینیتسا ميں مسلمانوں کے قتل عام کو اقوام متحدہ کی دی ہيگ ميں قائم عدالت ’نسل کشی‘ قرار دے چکی ہے۔ ہالينڈ ميں آج بھی يہ ايک متنازعہ موضوع ہے۔ گزشتہ برس ڈچ وزير دفاع نے اپنے ايک بيان ميں کہا تھا کہ ڈچ فوجيوں کے ليے يہ ’نا ممکن صورت حال ميں انتہائی نا ممکن مشن‘ تھا۔ بعد ازاں 1995ء ميں پناہ گزينوں کے کيمپ کی حفاظت پر مامور دو سو سے زائد فوجيوں کے ليے مقدمہ لڑنے والے وکيل نے پير کے روز کہا تھا کہ وہ سریبرینیتسا کے دفاع کے ليے ڈچ فوجيوں کو بھيجنے کے ليے حکومت کے خلاف ايک اور مقدمہ دائر کريں گے۔

ملتے جلتے مندرجات