1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سرگودھا میں پانچ امریکی شہریوں کی گرفتاری

پنجاب پولیس نے ایک کارروائی کے دوران سرگودھا شہر سے پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔

default

پے دے پے دہشت گردانہ واقعات کے باعث پاکستانی پولیس کو انتہائی چوکنا کیا گیا ہے

پولیس حکام کا کہنا ہے گرفتار شدہ افراد جن کی عمریں 19 سے بائیس برس کے درمیان ہیں، کا تعلق امریکہ سے ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کا پاکستانی عسکریت پسندوں یا القاعدہ سے روابط کے حوالے سے تفشیش جاری ہے۔

اینٹی آرگنائزڈ کرائم سیل سرگودھا سے منسلک ایک ٹیم نے شہر میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے بعد پانچ امریکی مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان افراد کو کالعدم عسکری تنظیم جیش محمد کے ایک رکن کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران پولیس کو لیپ ٹاپ، مختلف شہروں کے نقشے اور جہادی لٹریچر بھی ملا ہے۔

سرگودھا پولیس چیف عثمان فاروق کے مطابق ان لوگوں پر پہلے سے نظر رکھی گئی تھی اور ان کی مشتبہ نقل وحرکت دیکھ کر ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پانچ مشتبہ امریکی شہریوں کو گرفتارکیا گیا ہے جن سے ابھی پوچھ گچھ جاری ہے۔

واضح رہے کہ گرفتار شدہ پانچوں افراد امریکی ریاست ورجینیا کے رہائشی بتائے جارہے ہیں جن کے ورجیننا سے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے گھر والوں نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھی مطلع کر رکھا تھا۔ گرفتار شدہ ان افراد میں سے ایک مصری نژاد، ایک اریٹیریا، ایک ایتھوپیا نژاد اور بقیہ دو پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں۔

اسی تناظر میں بدھ کے روز امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے FBI کی طرف سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ، ایف بی آئی ان گرفتارشدگان افراد کے گھروالوں سے بھی رابطے میں ہے اور اس کے ساتھ ہی پاکستانی سیکیورٹی حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے، تاکہ معاملے کی تحقیقات میں ایک دوسرے کی مدد کی جاسکے۔

دوسری طرف پاکستانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری کے بارے میں شواہد ملے ہیں کہ وہ 2007 میں سرگودھا شہر میں ایئرفورس کی بس پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں شامل رہا تھا اور ابھی بھی یہ افراد شمال مغربی علاقے میران شاہ میں پاکستانی طالبان سے رابطے میں تھے اور کسی بڑی تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے پنجاب میں عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک میں ایک رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔

مغربی میڈیا میں، ایک طرف تو جہاں ان گرفتاریوں کو دہشت گردی کے خلاف ایک پیش قدمی قرار دیا جارہا ہے دوسری جانب ان خدشات کا اظہار بھی کیا جانے لگا ہے کہ امریکہ یا یورپ میں مقیم مسلم خاندانوں کے نوجوان اب انٹرنیٹ کے ذریعے شدت پسند عناصر کی طرف راغب ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ اس تازہ کارروائی میں گرفتار امریکی نوجوانوں کا کہنا تھا کہ وہ جہاد کی غرض سے یہاں آئے ہیں۔

رپورٹ : عبدالرؤف انجم

ادارت : کشور مصطفیٰ