1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سرکریک کا مسئلہ، تیل کے کنویں اضافی کشش ہیں

سرکریک کے متنازعہ سمندری علاقے میں تیل کے کچھ کنویں ہیں اور وہاں تیل کی موجودگی کا امکان ہے۔ یہ اس علاقے کی ایک اضافی کشش ہے۔ دوسرا اور بنیادی مسئلہ حد بندی کا ہے کہ حد بندی کس طریقے سے کی جائے۔

default

پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکریک کے متنازعہ سمندری علاقے پر راولپنڈی میں جاری دو روزہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے۔ جمعے کے روز ان مذاکرات میں آٹھ رکنی بھارتی وفد کی قیادت سرویئر جنرل آف انڈیا ایس سبھا راؤ نے کی جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی ایڈیشنل سیکرٹری وزارت دفاع ریئر ایڈمرل شاہ سہیل مسعود نے کی۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ سے جاری ہونیوالے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور ان کے ذریعے تمام مسائل کے حل کے لیے پر امید ہے۔ وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق جمعے کے روز مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں ممالک کی بحریہ کی طرف سے تیار کیے گئے سرکریک کے سروے کا تبادلہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ اس علاقے کی تازہ صورتحال پر دونوں جانب سے ایک دوسرے کو بریفنگ بھی دی گئی۔ دفاعی تجزیہ نگار وائس ایئر مارشل ریٹائرڈ شہزاد چوہدری کے مطابق سرکریک کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے آٹھ دور ہو چکے ہیں لیکن بقول ان کے بھارت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اب تک اس معاملے کو لٹکاتی آئی

Manmohan Singh und Syed Yousuf Raza Gilani in Ägypten

سرکریک کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے آٹھ دور ہو چکے ہیں

ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بنیادی طور پر یہ حد بندی کا مسئلہ ہے کہ حد بندی کس طریقے سے کی جائے۔ کریک کا کتنا حصہ ان کی طرف جاتا ہے یا پاکستان کی طرف آتا ہے کیونکہ تقسیم کے وقت ان علاقوں کی حد بندی نہیں کی جا سکی تھی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’یہاں پر اصل میں تیل کے کچھ کنویں ہیں اور تیل کی موجودگی کا امکان ہے۔ بلکہ بھارت کی طرف سے تو پہلے ہی اس پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔ یہ اس علاقے کی ایک اضافی کشش ہے لیکن یہ معاملہ حل ہو جائے ہے تو یہ علامتی طور پر بہت اہم ہوگا کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کم از کم ایک مسئلہ تو حل ہوتا نظر آئے گا۔‘‘

سرکریک پر چار سال قبل ہونیوالے مذاکرات کے آخری دور میں دونوں ممالک نے چھیانوے کلومیٹر طویل اس آبی پٹی کے تنازعے کے حل میں کافی پیشرفت کر لی تھی، جو رن آف کچھ کے علاقے میں بھارتی گجرات اور پاکستانی صوبہ سندھ کو تقسیم کرتی ہے۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ تنویر احمد خان کا کہنا ہے کہ سیاچن کے مقابلے میں سرکریک کا مسئلہ فوری طور پر قابل حل ہے کیونکہ اس ضمن میں کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس تنازعے کو تو حل کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی سمندری حدود کے تنازعات کے حل کے لیے ایک ڈیڈ لائن ہے۔ اگر اس کے اندر فیصلہ نہ ہوا تو کچھ اور قوانین بھارت پر لاگو ہوں گے اور ایسا نہ ان کے لیے اور نہ ہمارے لیے مفید ہوگا۔ اس لیے اس معاملے کو آپس میں حل کر لیا جائے تو بہتر ہے۔‘‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکریک پر دو روزہ مذاکرات کا کل حتمی دور ہو گا۔ مذاکرات کے آخر پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM