1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سروے: اسامہ کی موت پر اکثر پاکستانی رنجیدہ

پاکستان میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر رنجیدہ ہے۔ اکیاون فیصد رائے دہندگان کے مطابق انہیں بن لادن کی موت پر جو افسوس ہے اسے دکھ کا نام دیا جا سکتا ہے۔

default

اسامہ بن لادن

اس کے برعکس ایک تہائی رائے دہندگان نے یہ کہا کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسامہ بن لادن مارا گیا ہے۔ ایسے پاکستانی باشندوں کے مطابق ان پر القاعدہ کے رہنما کی موت کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کمانڈوز کی کارروائی کے تقریباﹰ ایک ہفتے بعد سات مئی سے لے کر دس مئی تک پورے پاکستان میں کیے جانے والے ایک گیلپ سروے کے نتائج نے ثابت کر دیا کہ صرف 11 فیصد پاکستانیوں کو بن لادن کی موت پر خوشی ہوئی۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اسامہ بن لادن اب زندہ نہیں ہے۔

اس عوامی جائزے میں 44 فیصد رائے دہندگان نے اس سوچ کا اظہار کیا کہ القاعدہ کا رہنما امریکی فوجی کارروائی میں ’شہید‘ ہو گیا ہے۔ ایسے رائے دہندگان نے بن لادن کی موت کے لیے ہلاکت کے بجائے ’شہادت‘ کا لفظ استعمال کرنے کو ترجیح دی۔ اس کے برعکس 28 فیصد یا ایک چوتھائی سے کچھ زائد رائے دہندگان کے مطابق ایبٹ آباد میں دو مئی کو کی گئی فوجی کارروائی میں بن لادن اس لیے مارا گیا کہ وہ ایک مطلوب مجرم تھا۔

NO FLASH Tod Bin Laden Indien Zeitung

بن لادن کی موت مسلسل بین الاقوامی میڈیا میں سرخیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے

ایبٹ آباد میں بن لادن کے رہائشی کمپاؤنڈ پر امریکی فوجی کارروائی کے بارے میں 49 فیصد رائے دہندگان کے خیال میں امریکہ نے اس آپریشن کو اسٹیج کیا تھا صرف 26 فیصد کے مطابق اس آپریشن کے بعد جو کچھ امریکہ کی طرف سے کہا گیا وہ سچ تھا جبکہ ہر چوتھے یا کل 25 فیصد رائے دہندگان نے اس بارے میں غیر یقینی سوچ کا اظہار کیا کہ ایبٹ آباد میں آپریشن کے حوالے سے جو کچھ بھی کہا گیا ہے، وہ سچ ہے یا جھوٹ۔

اس جائزے میں 30 فیصد افراد نے اس امید کا اظہار کیا کہ بن لادن کی موت کے بعد اب افغانستان سے امریکی فوجیں واپس چلی جائیں گی۔ اس کے برعکس ہر دوسرے رائے دہندہ کے خیال میں افغانستان میں امریکی فوجی ابھی موجود رہیں گے اور ان کی جنگی کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔

گیلپ انٹرنیشنل کی پاکستانی شاخ گیلپ پاکستان کی طرف سے کرائے گئے اس جائزے کے نتائج پاکستان میں گیلانی فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کیے گئے۔ اس سروے کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں کل 2530 مردوں اور خواتین سے ان کی رائے دریافت کی گئی تھی۔ پاکستان میں داخلی سلامتی کی صورتحال کے حوالے سے اس سروے کے نتائج سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ دو تہائی سے زیادہ رائے دہندگان کے مطابق ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی سے پاکستان کی ریاستی خود مختاری کو شدید دھچکا لگا ہے۔

اس کے علاوہ 42 فیصد رائے دہندگان نے ان خطرات کا اظہار کیا کہ بن لادن کی موت کے بعد پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا جبکہ صرف 14 فیصد نے یہ امید ظاہر کیا کہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ملک میں دہشت گردانہ حملوں میں شاید کمی آ جائے گی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس