1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

سرود نواز استاد امجد علی خان ’ڈاکٹر‘ بن گئے

بھارت کے ممتاز سرود نواز فنکار استاد امجد علی خان کو ثقافت اور موسیقی کی ترویج و ترقی کے لیے اپنی بے پناہ خدمات کے بدلے میں ریاست آسام کی نجی شعبے کی یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا ہے۔

Amjad Ali Khan

ممتاز سرود نواز استاد امجد علی خان، جن کی ستر ویں سالگرہ اس سال اکتوبر میں منائی گئی

استاد امجد علی خان کو یہ اعزاز ہفتہ اٹھائیس نومبر کے روز بھارت کی مشرقی ریاست آسام کے شہر جورہاٹ میں قاضی رنگا یونیورسٹی کے کیمپس میں منعقدہ دوسرے کونووکیشن کی تقریب میں دیا گیا۔

بھارتی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری وصول کرنے کے بعد ستر سالہ استاد امجد علی خان نے، جو 2001ء میں پدم وبھوشن جیسا بھارت کا دوسرا اعلیٰ ترین سول اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں، اپنے احساسات کا اظہار ان الفاظ میں کیا:’’میں بہت خوش ہوں اور اس بات پر بہت فخر محسوس کر رہا ہوں کہ قاضی رنگا یونیورسٹی نے مجھے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا ہے۔ زندگی کے سفر کے ہر مرحلے پر ملنے والا ہر ایوارڈ آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور آپ کے سفر کی گواہی دیتا ہے۔‘‘

بھارت کے اس ممتاز سرود نواز کا مزید کہنا تھا:’’مجھے جو بے پناہ محبت ملی ہے، میں اُس کے لیے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔ میں بڑی انکساری کے ساتھ اس یونیورسٹی کا اس اعلیٰ اعزاز کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘

Dossierbild orientalische Indische Musik 2

اُستاد امجد علی خان کی سرود نوازی کی خاصیت یہ ہے کہ وہ تاروں کو چھیڑنے کے لیے بائیں ہاتھ کے ناخن استعمال کرتے ہیں

امجد علی خان نو اکتوبر 1945ء کو گوالیار کے ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، جو کئی نسلوں سے موسیقی کے ساتھ وابستہ چلا آ رہا ہے۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد حافظ علی خان سے حاصل کی، جو گوالیار کے دربار سے وابستہ تھے۔ امجد علی خان چھ برس کے تھے، جب اُنہوں نے پہلی مرتبہ باقاعدہ ایک محفل میں سرود بجایا۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تاریخ میں یہ ایک شاندار باب کا آغاز تھا۔

استاد امجد علی خان ساٹھ کے عشرے سے اس فن سے وابستہ چلے آ رہے ہیں۔ آج اُستاد امجد علی خان بھارت میں کلاسیکی موسیقی کے اہم ترین فنکاروں میں سے ایک ہیں۔ جہاں دیگر فنکار انگلیوں کی پورورں سے سرود کے تار بجاتے ہیں، وہاں اُستاد امجد علی خان کی سرود نوازی کی خاصیت یہ ہے کہ وہ تاروں کو چھیڑنے کے لیے بائیں ہاتھ کے ناخن استعمال کرتے ہیں۔

اُن کی فنی مہارت کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ گیتوں کی بنیاد پر اپنی دھنیں تیار کرتے ہیں۔ وہ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں تو انتہائی پیچیدہ راگ بھی ہلکے پھلکے انداز میں سرود سے برآمد ہونے لگتے ہیں۔