1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سرن کے سائنسدان 'اینٹی مَیٹر' کی تیاری میں کامیاب

یورپین سنٹر فارنیوکلیئر ریسرچ (CERN) کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہےکہ انہوں نے مادے کی ضد یعنی اینٹی میٹر تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اینٹی میٹر کو ماڈرن فزکس کا سب سے بڑا معمہ قرار دیا جاتا ہے۔

default

سائنسی تحقیقی جریدے نیچر میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں سرن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس نے ہائیڈروجن ایٹم کی ضد یعنی اینٹی ہائیڈروجن ایٹم تیار کی ہے۔ اور ان اینٹی ہائیڈروجن ایٹموں کو خصوصی طور پر بنائی گئی خلا میں ایک سیکنڈ کے دسویں حصہ تک قائم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سرن کے سائنسدانوں کے مطابق ان اینٹی ہائیڈروجن ایٹموں کے مشاہدے کے لیے یہ وقت کافی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سرن کے خصوصی تجرباتی پراجیکٹ 'الفا ایکسپیریمنٹ' میں قریب 38 اینٹی ہائیڈروجن ایٹموں کے مشاہدے کے لیے درکار مناسب وقت تک کے لیے مقید کیا گیا، تاکہ سائنسدان اس دیرینہ جواب طلب مسئلے کے بارے میں تفصیلات جان سکیں کہ بِگ بینگ کے فوری بعد اینٹی میٹر کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ ایک سائنسی مفروضے کے مطابق یہ کائنات دراصل بِگ بینگ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔

BdT Schweiz CERN Teilchenbeschleuniger LHC gestartet

پیدائش کائنات کی وجہ بننے والے بگ بینگ کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے لارج ہاڈران کولائیڈر میں تجربات جاری ہیں

ایک برطانوی نژاد ماہرطبیعات پال ڈیراک نے سن 1931ء میں ایک نظریہ پیش کیا تھا کہ جب توانائی مادے میں تبدیل ہوتی ہے تو یہ مادے کے ایک ذرے یا پارٹیکل کے ساتھ ساتھ اس کی ضد یعنی اینٹی پارٹیکل بھی پیدا کرتی ہے۔ اس اینٹی پارٹیکل باقی تمام خواص تو اپنے جیسے پارٹیکل کی طرح کے ہوتے ہیں سوائے اس کے چارج کے جو کہ پارٹیکل کے بالکل الٹ ہوتا ہے۔

مفروضے کے مطابق جب پارٹیکل اور اینٹی پارٹیکل آپس میں ٹکراتے ہیں تو توانائی کے ایک جھماکے کے ساتھ ہی دونوں فنا ہوجاتے ہیں۔

تاہم سائنسدانوں کے لیے یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ اگر کائنات کی پیدائش توانائی سے مادے میں تبدیلی کے ساتھ ہوا تو پھر 'مَیٹر' اور 'اینٹی مَیٹر' کو برابر برابر مقدار میں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن دوسری طرف اگر ایسا ہوا ہوتا تو پھر میٹر اور اینٹی میٹر کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر فنا ہوجانا چاہیے تھا مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اسی وجہ سے سائنسدان اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ پیدائش کائنات کے وقت اینٹی میٹر کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ مادہ تو موجود رہ گیا مگر اینٹی مادہ غائب ہوگیا۔

یورپین سنٹر فار نیوکلیئر ریسرچ کے الفا ایکسپیریمنٹ نامی پراجیکٹ کے ایک ترجمان جیفری ہینگسٹ کے مطابق چونکہ اینٹی میٹر کے بارے میں تفصیلات ابھی تک کوئی بھی وثوق کے ساتھ نہیں جانتا اس لیے قدرت اینٹی میٹر کی موجودگی کی نفی کرتی ہے۔ ہینگسٹ کے مطابق یہی وجہ سے کہ سرن کے سائنسدان اس بات پر پوری دلجمعی کے ساتھ کام کررہے ہیں کہ اینٹی میٹر میں معمہ پوشیدہ بھی ہے یانہیں؟

رپورٹ : افسراعوان

ادارت : عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس