1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سرمایہ کاروں کی تیز نظریں، منگولیا کے معدنی ذخائر پر

منگولیا کا نام سنتے ہی غیر ملکی سرمایہ کاروں کی آنکھیں چمکنا شروع ہو جاتی ہیں۔ چین اور روس کے درمیان واقع اس کم آبادی والے ملک کے معدنی ذخائر امیر ملکوں کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک اضافی کشش ہیں۔

default

ہانگ کانگ میں سرمایہ کاروں کو مشاورت دینے کا کام کرنے والے کرسٹوفر ووڈ کا کہنا ہے، ’’بر اعظم ایشیا میں منگولیا نے ہوش رُبا رفتار کے ساتھ ترقی کی ہے لیکن اس ترقی سے بلند ہمت اور حوصلے والے لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتےہیں۔‘

منگولیا کوئلے، تانبے، سونے اور نادر معدنیات سے مالا مال ملک ہے۔ رواں برس کی پہلی ششماہی میں ہی ملکی معیشت میں 14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ منگولیا کے دارالحکومت آلان باتور میں ایک کمپنی انویسٹمنٹ اسٹریٹیجی سے وابستہ دالے چوئی کا کہنا ہے، ’’معیشت کے لحاظ سے یہ اعداد و شمار دنیا کے ہر ملک کے لیے بہت زیادہ ہیں۔ کان کنی اور اس کے دوسرے شعبوں پر اثرات کی وجہ سے ہماری معیشت دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔‘‘

Mongolei Steppe Landschaft Pferde

تاہم معدنیات کے حصول کے لیے کان کنی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ اقتصادی ترقی کے ثمرات سے ملک کا صرف ایک مخصوص طبقہ مستفید ہو رہا ہے۔ منگولیا کے دارالحکومت میں ایک فلاحی تنظیم ورلڈ وژن سے منسلک یورگن ویلنر کا کہنا ہے کہ یہاں کی ایک تہائی آبادی ابھی بھی انتہائی غریب ہے۔ ان کے مطابق اس ملک کا مستقبل تو انتہائی روشن نظر آ رہا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہاں کی ایک تہائی آبادی کا مستقبل بھی ایسا ہی ہو۔ ملکی معیشت میں ترقی کے اعداد و شمار تو انتہائی اچھے ہیں لیکن کیا اس ترقی کے ثمرات غریب طبقے تک بھی پہنچ پائیں گے، یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔

گزشتہ دس سالوں میں منگولیا کی مجموعی قومی مصنوعات کی پیداوار میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن غربت میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

جرمن فلاحی تنظیم کونراڈ آڈیناؤر فاؤنڈیشن سے منسلک یوہانس رائی کا کہنا ہے کہ منگولیا میں غربت کی اصل وجہ وہاں گزشتہ بیس برسوں میں صنعتی ترقی کا نہ ہونا ہے۔ یہ ملک صرف خام معدنیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے چل رہا ہے۔ منگولیا کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ خام معدنیات کو برآمد کرنے کی بجائے ان کی تیاری بھی اسی ملک میں کی جائے۔ دوسری جانب جرمن چانسلر اپنے چار روزہ دورے کے دوران ویتنام کے بعد آج منگولیا پہنچ گئی ہیں۔ کسی بھی جرمن سربراہ مملکت کا یہ منگولیا کا پہلا دورہ ہے۔ منگولیا روانگی سے قبل جرمن چانسلر کہہ چکی ہیں کہ یہ ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور اس شعبے میں دو طرفہ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

رپورٹ: روتھ کِرشنر / امتیاز احمد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM