1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سرفراز شاہ قتل کیس: موت کی سزا پر ہیومن رائٹس واچ کی تنقید

ہیومن رائٹس واچ نے سرفراز شاہ قتل کیس کے ملزم کو موت کی سزا سنائے جانے کو احتساب کی سمت ایک قدم قرار دیا ہے تاہم موت کی سزا کے خلاف اپنے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔

default

نیو یارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی عدالت کی جانب سے رینجرز کے ہاتھوں پاکستانی نوجوان سرفراز شاہ کے قتل کے کیس میں ایک نیم فوجی اہلکار کو موت کی سزا سنائے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے اس فیصلے کو انصاف اور احتساب کی جانب ایک سنگ میل قرار دیا ہے تاہم موت کی سزا کو ظالمانہ بھی قرار دیا ہے۔


خیال رہے کہ اٹھارہ سالہ سرفراز شاہ کو کراچی میں رینجرز اہلکاروں نے گولیں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کی وڈیو پاکستان کے ٹی وی چینلز پر چلنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ اب پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزمین کو سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے سرفراز شاہ پر گولیاں چلانے والے رینجرز کے اہلکار شاہد ظفر کو موت کی سزا سنائی ہے جب کہ دیگر پانچ اہلکاروں اور ایک سویلین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ شاہد ظفر کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

Pakistan Lahore Anschlag

پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں پر اس سے قبل بھی ماورائے عدالت اقدامات کرنے کا الزام لگتا رہا ہے


انسانی حقوق کی تنظیمیں، بالخصوص ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل موت کی سزا کے خلاف ہیں۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ یہ سزا غیر انسانی اور سفاک ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سن دو ہزار آٹھ سے اب تک کسی بھی موت کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔


پاکستان کے لیے ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر علی دایان حسین کا کہنا ہے، ’’یہ فیصلہ کچھ حد تک پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور نیم فوجی ایجنسیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں مدد دے گا۔ ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے احتساب کے خوف سے زیادہ بہتر کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘


رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات