1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سرفراز شاہ قتل کیس، رینجرز اہلکار کو سزائے موت

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سرفراز شاہ قتل کیس میں ملزم شاہد ظفر کو سزائے موت اور دیگر چھ ملزمان کو عمر قید کی سزاسنا دی ہے۔ ملزمان کے وکیل نے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

default

انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج بشیراحمد کھوسو نے رینجرز کے اہلکار ملزم شاہد ظفر کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ ملزم نے فائرنگ کر کے سرفراز شاہ کو قتل کیا تھا۔عدالت نے دیگر ملزمان رینجراہلکاروں محمد افضل،من ٹھار علی، محمد طارق، لیاقت علی، بہاؤالرحمان اور ایک سویلین افسر خان کو عمر قید اورایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ فیصلے سے قبل ملزم شاہد ظفرعدالت میں وظیفہ کرتا رہا۔ طرفین کے وکیل اورکیس کے مدعی بھی عدالت میں موجود تھے۔ مقتول کے بھائی سالک شاہ نے فیصلے پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی مداخلت کی وجہ سے مجرم انجام تک پہنچے ہیں، ورنہ یہ خون رائیگاں چلا جاتا۔

پبلک پراسیکیوٹر محمدخان برڑو نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے انصاف کے تقاضے پورےہوگئے ہیں۔

Pakistan Gewalt Karachi

اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز خصوصا رینجرز کو مقامی میڈیا نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا

ملزمان کے وکیل نعمت رندھاوا نے انسداددہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کیس کی وجہ سے دباؤ کا نتیجہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ملزمان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات کا اطلاق نہیں ہوتا، فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا اور عمرقید پانے والے تمام ملزمان باعزت بری ہوجائیں گے۔

سرفراز شاہ کو آٹھ جون کی شام رینجرز اہلکاروں نے کلفٹن کے بینظیر بھٹو پارک میں فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

واقعے کی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد 9 جون کو چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے مقدمے کی سماعت انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں کرنے اور فیصلہ ایک ماہ میں سنانے کے احکامات جاری کئے تھےجبکہ عدالت نے 9 اگست کو سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اوربیالیس روز بعد بارہ اگست کو کیس کا فیصلہ سنادیا گیا۔ مقدمے کی کارروائی میں بیس گواہوں نے بیانات قلمبند کرائے، جن میں تین عینی شاہدین بھی شامل تھے۔ جرم ثابت کرنے کے لیے چھیالیس شواہد عدالت کے روبرو پیش کیے گئے۔ ملزمان عدالتی فیصلے کے خلاف سات روز میں سندھ ہائی کورٹ میں اپیل کرسکتے ہیں۔

رپورٹ رفعت سعید

ادارت عاطف توقیر

DW.COM