1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

سرفراز اور عامر نے لاج رکھ لی

معیار کی ضمانت کے بغیر یہ ٹورنامنٹ کا سب سے دلچسپ میچ ثابت ہوا۔ مڈل آرڈر کی پسپائی نے پاکستان کو پاپڑ بیلنے پر ایسا مجبور کیا کہ سرفراز احمد اور محمد عامر کی آٹھویں وکٹ کی ریکارڈ 75رنز کی شراکت کے ذریعے ہی ممکن ہو سکی۔

کوارٹر فائنل کی حیثیت اختیار کر جانے والے آئی سی سی چیپمئنز ٹرافی گروپ بی کے اس آخری میچ میں پاکستانی کپتان سرفراز احمد پر قسمت کی دیوی صبح و شام مہربان رہی۔ کارڈف کے صوفیہ گارڈن پر انہوں نے پہلے اہم ٹاس جیتا اور پھر 38 اور 40 کے انفرادی اسکور پر سری لنکن فیلڈرز نے ان کے دو آسان کیچز گرا کر اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ سرفراز نے بحران میں کپتان کی اننگز کھیلتے ہوئے پانچ چوکوں کی مدد سے نا قابل شکست 61 رنز بنائے اور مین آف دی میچ قرار پائے۔

'فخر کی واہ واہ'

پاکستان کی موجودہ ون ڈے بیٹنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طرز کہن پر اڑی ہوئی ہے لیکن نئے اوپنر فخر زمان شاٹ کھیلتے ہوئے بالکل وقت اور گیند ضائع نہیں کرتے۔ صوبہ خیبر پختون خواہ کے شہر مردان میں پیدا ہونیوالے 27 سالہ فخر نے اس میچ میں صرف چونتیس گیندوں پر اپنی پہلی بین الاقوامی نصف سینچری بنا کر اپنے مداحوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے سٹائلش فخر زمان نے سری لنکا کے مایہ ناز فاسٹ باولر لاستھ مالنگا کے دوسرے اوور میں تین چوکے لگا ئے۔ انہوں نے اپنی نصف سینچری آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے مکمل کی جو پاکستان کی جانب سے آئی سی سی چمپئنز ٹرافی کی تاریخ کی دوسری تیز ترین نصف سینچری ہے۔

 یہ ریکارڈ شاید آفریدی کے نام ہے جنہوں نے ہالینڈ کے خلاف سن 2002 کی کولمبو چیمپئنز ٹرافی میں 18 گیندوں میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ فخر زمان کا یہ پہلا ٹورنامنٹ ہے،12 اوورز کے بعد کارڈف میں پاکستان کا اسکور 74 تھا اور منزل سامنے نظر آرہی تھی لیکن ان کے آوٹ ہونے کے بعد محمد حفیظ اور شعیب ملک بری طرح ناکام رہے۔ ملک اور محمد حفیظ چار برس پہلے انگلینڈ میں ہی ہونیوالی چیمپئنز ٹرافی میں بھی کوئی نصف سینچری نہیں بنا سکے تھے اور موجودہ ٹورنامنٹ بھی تاحال ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔

'پاکستانی پیسرز کا طوطی بول رہا ہے'

اس مقابلے میں سری لنکا کی تمام دس وکٹیں پاکستانی فاسٹ باولرز نے گرائیں۔ پہلے ہاف میں سری لنکن کپتان اینجلو میتھیوز اور روشان ڈکویلا کی چوتھی وکٹ کی خطرناک شراکت 78 تک جا پہنچی تھی کہ محمد عامر نے دوسرے اسپیل میں آکر دونوں کو یکے بعد دیگر دو اوورز میں ٹھکانے لگا دیا۔

جنید خان نے بھی دوسرے اینڈ پر تباہ کن باولنگ کی اور ڈی سلوا اور پریرا کو پویلین کا راستہ دکھا دیا۔ یوں سری لنکا جس کے 161پر صرف تین کھلاڑی آوٹ تھے، 23 گیندوں میں سات رنز کے اضافے میں مزید چار وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا۔ تیسرے پاکستانی پیسر حسن علی نے جو جنوبی افریقہ کے خلاف تین وکٹیں لیکر مین آف دی میچ بنے تھے، سری لنکا کے سب سے ان فارم بیٹسمین کوسل مینڈس کو دلکش انسوئنگر پر بولڈ کیا۔ جب پہلا میچ کھیلنے والے سیمر فہیم اشرف نے نوان پردیپ کو آوٹ کرکے سری لنکن اننگز کا خاتمہ کیا تو یہ پاکستانی تاریخ میں پانچواں موقع تھا جب مخالف ٹیم کی تمام دس وکٹیں فاسٹ باولرز نے اڑائیں۔ میچ کے بعد کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ اس کامیابی کا سہرا باولنگ کوچ اظہر محمود کے سر جاتا ہے جن کی باولرز کے ساتھ محنت رنگ لا رہی ہے۔

'دونوں ٹیموں کی غلطیاں اور جرمانہ'

میچ میں پاکستان اور سری لنکا بیٹنگ کا معیار اتنا ہی بدتر تھا جتنا فیلڈنگ کا۔ ڈراپ کیچز کے علاوہ دن بھر مس فیلڈنگ اور اوور تھروز کی بھی بد چلنی دیکھنے آئی۔ سلو اوور ریٹ کی پاداش میں پاکستان ٹیم کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے میچ ریفری کرس براڈ نے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ تمام کھلاڑیوں پر میچ فیس کا دس فیصد اور کپتان سرفراز احمد پر 20 فیصد جرمانہ عائد ہوگا۔

سابق پاکستانی کپتان مصباح الحق نے میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ناک آوٹ میچ تھا، جس کے دباو میں دونوں طرف کے کھلاڑی اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ سکے اور غلطیاں کرتے رہے۔ مصباح نے کہا کہ انہیں پاکستانی سینر بلے بازوں کی کارکارگی پر بہت مایوسی ہوئی۔ مصباح کا کہنا تھا،  ’’انہیں سرفراز احمد کی میچ وننگ اننگز دیکھ کر خوشی ہوئی سرفراز کو اب کپتان بننے کے بعد ایسی مزید اننگز کھیلنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔‘‘

'سیمی فائنل میں کھل کر کھیلنا ہوگا'

چیمپئنز ٹرافی کا پہلا سیمی فائنل بدھ کو پاکستان اور میزبان انگلینڈ کے درمیان کارڈف کی اسی پچ پر کھیلا جانا ہے۔ پاکستان 1992ء  کے یادگار میلبورن ورلڈ کپ فائنل کے بعد پہلی بار انگلینڈ سے آئی سی سی ٹورنامنٹ کا کوئی ناک آوٹ میچ کھیلے گا۔ میلبورن فائنل کے ہیرو سابق کپتان وسیم اکرم کہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم چیمپئنز ٹرافی میں صحیح وقت پر پیک(جوبن) پر آرہی ہے۔ لاجواب اننگز کھیلتے ہوئے کپتان سرفراز نے قائدانہ کردار ادا کیا جو سیمی فائنل سے پہلے اچھا شگن ہے۔

 مصباح کا خیال ہے پاکستان کو سیمی فائنل میں آزادانہ کھیلنے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ مصباح نے کہا کہ انگلینڈ ٹورنامنٹ کی سب سے اچھی ٹیم بن کر سامنے آئی ہے لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کو ہر قسم کے دباو سے آزاد ہو کر کھیلنا ہوگا کیونکہ سیمی فائنل تک ان کا پہنچنا ہی بڑی بات ہے اور اس کے بعد ان پر دباو نہیں ہونا چاہئے ۔ ایک اور سابق کپتان عامر سہیل نے پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں لیگ اسپنر شاداب خان کو کھلانے کا مشورہ دیا ہے۔ عامر کے بقول انگریز بیٹسمین روایتی طور پر لیگ اسپن کو اچھا نہیں کھیلتے اس لیے شاداب کو ٹیم میں کارڈف کی چھوٹی باونڈری کے باوجود واپس لانا ضروری ہے۔