1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سرطان کا جدید علاج بھی نہیں اور پیسے بھی زیادہ

غریب مشرقی یورپی ملک بلغاریہ کا طبی شعبہ بہت زیادہ جدید نہیں ہے۔ یہاں پر اکثر مریضوں کو نت نئے طریقہ علاج تو دستیاب نہیں ہیں لیکن ان لوگوں کو اکثر اپنے علاج پر مغربی ممالک سے زیادہ رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔

بلغاریہ کی ایک 54 سالہ خاتون داریا ڈی نے کہا،’’ اگر مجھے دوبارہ سرطان ہو گیا تو پھر خدا ہی میرا مدد کر سکتا ہے۔‘‘ داریا یہ اس لیے نہیں کہی کہ وہ عقیدے کی پکی ہے بلکہ یہ الفاظ اس نے مایوسی کی وجہ سے ادا کیے ہیں۔ وہ پانچ سال پہلے سرطان سے جنگ کر چکی ہے۔ تاہم اب اس بارے میں دوبارہ سوچنا نہیں چاہتی۔ وہ اپنا کاروبار کرتی ہے اور یہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اپنے علاج کی کچھ رقم ، جو بارہ سو یورو کے برابر بنتی ہے، اپنے پاس سے ادا کر سکتی تھی۔

داریا بتاتی ہے کہ کیمو تھراپی اور کچھ معائنوں کے پیسے میڈیکل انشورنس ادا نہیں کرتی۔ اس کےبقول ان میں سے کئی طبی معائنے انتہائی مہنگے ہیں۔ بلغاریہ کی اقتصادی صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے اور اب تو انشورنس کمپنیوں نے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کو مزید محدود کر دیا ہے۔

2012ء سے 2014ء کے دوران سرطان کے علاج کے لیے مہیا ادویات کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں اور دوسری جانب انشورنس کمپنیاں بچتی اقدامات پر زور دیے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال میں دوائیں خریدنا اکثر مریضوں کے بس سے باہر کی بات ہو چکی ہے۔

بلغاریہ کے وزیر صحت پیتار موسکوو نے گزشتہ برس ملکی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو انتباہ کیا تھا کہ یا تو وہ اپنی ادویات کی فروخت کے وقت نرخوں میں زیادہ رعایت کریں یا پھر ان کی ادویات اس فہرست سے خارج کر دی جائیں گی، جن کو خریدنے پر مریضوں کو ہیلتھ انشورنس کی جانب سے پیسے واپس کر دیے جاتے ہیں۔

مشرقی اور مغربی یورپی ممالک میں ادویات کی فراہمی کے نظام میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ یورپی سطح پر سرطان کے مریضوں کی ایک تنظیم کا تازہ جائزہ واضح کرتا ہے کہ مشرقی یورپ میں سرطان کے مریضوں کے دوبارہ صحت مند ہونے کے امکانات مغربی یورپ کے مقابلے میں چالیس فیصد کم ہیں۔