1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

سرطان سے بچنے کے لیے طرززندگی بدلیے

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ طرز زندگی میں تبدیلیاں سرطان کے خلاف کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہفتے میں ڈھائی گھنٹے ورزش کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

default

ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ صحت افزاء کھانے کھائیں، شراب کم پیئں اور ورزش زیادہ کریں تو امریکہ، چین اور برطانیہ میں سرطان کی عام اقسام کے تقریباﹰ ایک تہائی کیسز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

امریکن انسٹی ٹیوٹ فار کینسر ریسرچ (اے آئی سی آر) اور ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ (ڈبلیو سی آر ایف) کے مطابق طرز زندگی میں سادہ تبدیلیوں کے ذریعے صرف برطانیہ اور امریکہ میں ہی خواتین میں چھاتی کے سرطان کے کیسز چالیس فیصد کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑی آنت، غدود اور معدے کے کینسر سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

ڈبلیو سی آر ایف کے طبی اور سائنسی مشیر مارٹن وائزمین نے ایک بیان میں کہا، ’یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ 2011ء میں بھی لوگ غیرضروری طور پر سرطان سے مر رہے ہیں جبکہ جسمانی وزن، غذا اور جسمانی سرگرمی سمیت طرز زندگی میں شامل دیگر عادت میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے ذریعے ان سے بچا جا سکتا ہے۔

اس طبی ادارے کے مطابق چین میں چھ لاکھ بیس ہزار یا 27 فیصد کیسز سے بچا جا سکتا ہے۔ امریکہ میں ایسے کیسز کی شرح 35 فیصد یا تین لاکھ چالیس ہزار ہے۔ برطانیہ میں یہ شرح 37 فیصد ہے۔

Formation in pink gegen Brustkrebs in Lissabon

لائف اسٹائل بدلنے سے خواتین میں چھاتی کے کینسر پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے

بتایا جاتا ہے کہ صحت مند طرز زندگی برازیل میں 61 ہزار اور برطانیہ میں 79 ہزار کیسز میں بچاؤ کی وجہ بن سکتا ہے۔ ڈبلیو سی آر ایف کے ان نتائج کی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی توثیق کی ہے، جس کا کہنا ہے کہ مسلسل ورزش متعدد بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جن میں دل کا دورہ اور ذیابیطس بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ سرطان کا مرض دنیا بھر میں موت کی وجہ بننے والی بڑی وجوہات میں سے ایک ہےجبکہ اس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس