1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سردی و برفباری کے باوجود مہاجرين پُر عزم

يورپ ميں موسم سرما کی آمد کے باوجود پناہ کے ليے مہاجرين کی آمد کا سلسلہ اب بھی برقرار ہے۔ سينکڑوں پناہ گزين سلووينيا اور آسٹريا کے درميان پھنس گئے ہيں، جہاں انہيں شديد مشکلات کا سامنا ہے۔

تيس سالہ پاکستانی ارمان بٹ نے اپنی زندگی ميں پہلی مرتبہ برفباری بالآخر ديکھ ہی لی ليکن وہ اس انداز ميں برفباری ديکھے گا، يہ اس کے تصور تک ميں نہ تھا۔ پاکستانی شہر لاہور سے تعلق رکھنے والا بٹ مغربی يورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران ديگر تقريباً پچاس پناہ تارکين وطن کے ہم راہ سلووينيا اور آسٹريا کے بارڈر پر پھنسا ہوا ہے۔ آسٹرين سرحد سے کچھ ہی فاصلے پر ان پناہ گزينوں کو سخت سردی اور تيز ہواؤں کا سامنا ہے۔

کچھ وقت پہلے آسٹريا کے سرحدی گارڈز نے ان تارکين وطن کو سلووينيا کے حدود ميں دھکيل ديا تھا۔ بٹ اور ديگر پناہ گزينوں کوسخت سردی کا سامنا ہے اور يہ لوگ چل بھی بہ مشکل ہی رہے ہيں۔ ليکن بٹ اپنی منزل تک پہنچنے کے ليے پر عزم ہے۔

سلوينينا کے سول ڈيفنس کے محکمے کے اہلکار اور فوجی دستے پناہ گزينوں کے ہمراہ آسٹريا کے ’اسپرنگ فيلڈ فرنٹيئر‘ کی جانب پيش قدمی کر رہے ہيں۔ يوميہ بنيادوں پر قريب نو سو تارکين وطن کروشيا سے ريل گاڑيوں کے ذريعے يہاں پہنچتے ہيں۔

يورپی براعظم تک پہنچنے والے اکثريتی مہاجرين شام، عراق اور افغانستان جيسے اپنے ملکوں ميں جنگ و جدل، تشدد اور مظالم سے پناہ کے ليے يہاں آتے ہيں۔ تاہم ارمان بٹ جيسے کچھ صرف ايک بہتر زندگی کے ليے يورپ کا رخ کرتے ہيں۔ ان مہاجرين کو مغربی يورپ پہنچنے کے ليے بلقان رياستوں سے گزرنے والے روٹ پر کافی دشورياں پيش آتی ہيں۔

مقدونيہ کی سرحد کے قريب واقع گيوگيليا کے ايک مہاجر کيمپ ميں گزشتہ دنوں درجنوں پناہ گزين بہ شمول بچے سخت سردی کے سبب بيمار ہو چکے ہيں۔ ايک امدادی کارکن Lence Zdravkin بتايا، ’’ادھر روزانہ لوگ آ رہے ہيں۔ وہ بالکل خالی ہاتھ ہوتے ہيں اور آگے کا سفر تک طے نہيں کر سکتے۔‘‘ ان کے بہ قول لوگ گيلے جوتوں اور کپڑوں ميں ملبوس وہاں پہنچتے ہيں اور اکثر اوقات انہيں بخار اور کھانسی کی شکايت بھی ہوتی ہے۔

شينتيليے کے مقام پر سلووينيا کی سرحدی گزر گاہ نيوز ايجنسی اے ايف پی کو الجیرین اور مراکشی پناہ گزينوں کے ايک اور گروپ نے بتايا کہ حاليہ دنوں ميں انہيں آسٹريا کے بارڈر سے پانچ مرتبہ دھکيلا جا چکا ہے، جس سبب وہ دو ممالک کے درميان پھنس کر رہ گئے ہيں۔ گزشتہ برس دسمبر کے اواخر ميں آسٹرين پوليس نے سينکڑوں تارکين وطن کے ايک گروپ کو جعلی شناختی دستاويز کے شبے پر واپس بھيج ديا تھا۔

مہاجرين کے بحران کے تناظر ميں چند يورپی رياستوں نے بارڈر کنٹرول نافذ کر ديے ہيں۔ جرمنی اور آسٹريا نے بھی ستمبر کے وسط سے يہ کر رکھا ہے۔ اسی ہفتے کے آغاز پر سويڈن نے بھی جزوی کنٹرول متعارف کرا ديے ہيں۔