1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سردار لطیف کھوسہ صوبہ پنجاب کے نئے گورنر

پاکستانی صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کی چار جنوری کو اپنے ہی ایک محافظ کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد صدر زرداری نے ممتاز وکیل سردار لطیف کھوسہ کی نئےگورنر کے طور پر تقرری کی منظوری دے دی ہے۔

default

پاکستانی صدر آصف زرداری نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے روانہ کی جانے والی سمری پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد لطیف کھوسہ کی بطور گورنر تقرری کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے اس تقرری کا خیر مقدم کیا ہے۔ لطیف کھوسہ سے گورنر کے عہدے کا حلف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجاز احمد چوہدری لیں گے۔

Pakistans neuer Präsident Asif Ali Zardari

زرداری اور گیلانی: فائل فوٹو

صوبہ پنجاب کے نئے گورنر سردار لطیف کھوسہ وکلاء برادری کے ایک سرگرم رہنما ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی سے ان کی وابستگی بھی دیرینہ ہے۔ اسی باعث بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی کی حکمران قیادت نے ان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مرکز میں کلیدی عہدوں سے نوازا تھا۔ وہ اٹارنی جنرل رہنے کے علاوہ وزیر اعظم کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ ان دنوں وہ سپریم کورٹ میں NRO سے متعلقہ مقدمات میں حکومت کی پیروی کر رہے تھے۔ وہ حکمران پارٹی کی وکلاء تنظیم پیپلز لائرز فورم کے صدر بھی ہیں۔

سردار لطیف احمد خان کھوسہ کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے ہے جو سرائیکی زبان والا علاقہ ہے۔ لطیف کھوسہ 25 جولائی 1946 کو جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے اور طالب علمی کے دوران بھی طلبا سیاست میں خاصے فعال رہے تھے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کی یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے وکالت کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں قومی سیاست میں وکلاء کے ہمراہ بھرپور کردار بھی ادا کیا۔ پاکستان کی وکلاء برادری میں ان کا خاصا احترام کیا جاتا ہے۔

Salman Taseer

پنجاب صوبے کے مقتول گورنر اپنی اہلیہ کے ہمراہ: فائل فوٹو

مبصرین کا خیال ہے کہ سردار لطیف خان کھوسہ کی بطور گورنر تعیناتی پنجاب میں حکومت کرنے والی جماعت مسلم لیگ نون کے لیے مصالحت کا پیغام بھی ہے۔ اس کے علاوہ یہ فیصلہ جنوبی پنجاب میں پہلے سے مقبول پیپلز پارٹی کے لیے مزید استحکام کا باعث بھی ہو گا۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا تعلق سرائیکی زبان بولنے والے علاقے کے بڑے شہر ملتان سے ہے۔ اس طرح پنجاب کی سیاست پر جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں کو اب قدرے فوقیت حاصل ہو گئی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ قیاس آرائیوں کے تناظر میں نئے گورنر کے طور پر اگر بابر اعوان یا قمرالزمان کائرہ کا انتخاب کیا جاتا، تو شاید شہباز شریف حکومت کو سلمان تاثیر کی طرف سے دیے جانے والے بیانات سے بھی زیادہ سخت بیانات کا سامنا کرنا پڑتا۔ امکان ہے کہ لطیف کھوسہ اس طرح کی بیان بازی نہیں کریں گے جیسی سلمان تاثیر کیا کرتے تھے۔ اس کی وجہ ان کی متانت اور ان کی شخصیت کا دھیما پن قرار دیے جاتے ہیں۔ تاہم یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ نئے گورنر پاکستان مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت کو قانونی تقاضوں کے حوالے سے سیاسی مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کے وزراء کو بھی تحفظ حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ لطیف کھوسہ قدرے عوامی رہنما بھی خیال کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس