1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سرحد: سلامتی کی صورتحال

صوبہ سرحد کے شہر چارسدہ میں سکول عمارت میں موجود سیکوریٹی فورسز پر ہونیوالے خود کش حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ ایک امریکی شہری کو پشاور کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

default

چارسدہ خودکش حملغ میں تین سیکیوریٹی اہلکار اور ایک راہ گیر ہلاک۔

ہلاک ہونیوالوں میں تین سیکوریٹی اہلکار اورایک راہ گیربھی شامل ہے۔ حملہ آور نے بارود سے بھری وین سکول عمارت سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔ یہ دھماکہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں قیوم سپورٹس کمپلیکس میں پیر کے روز ہونیوالے خود کش حملے کے 16گھنٹے بعد ہوا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس خود کش حملے کے بعد بھی صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے صوبہ بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کادعویٰ کیا۔

علاوہ ازیں پشاو کے انتہائی حساس علاقہ یونیورسٹی ٹاؤن میں مقیم امریکی باشندے سٹیفن وینز اور ان کے ڈرائیور کونامعلوم افرادنے ہائی الرٹ کے باوجود گولی مارکر ہلاک کردیا۔ سٹیفن وینز پشاورمیں واقع یوایس ایڈ کے تعاون سے جاری فاٹا ترقیاتی ادارے کے ڈائریکٹر تھے۔ اس علاقے میں زیادہ تر سفارت کار اورغیرملکی رہائش پذیر ہیں ۔ تین ماہ قبل یہاں پشاور میں تعینات امریکی قونصل جنرل لین ٹریسی پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہی۔ حالیہ حملے کے بعد امریکی شہریوں کو فوری طورپر علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جس پر اقوام متحدہ کے سیکورٹی ایجنسی سمیت چھ امریکی پشاور سے اسلام آباد روانہ ہوگئے ہیں۔

BdT Pakistan Alltag in Peschawar

حالیہ حملے کے بعد امریکی شہریوں کو فوری طورپر علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

امن وامان کی خراب صورتحال اورحکومتی پالیسیوں کے بارے میں تجزیہ نگاراور قبائلی امور کے ماہر سلطان صدیقی کہتے ہیں کہ ’’سیکورٹی کے زمہ داران سے تویہی سنتے ہیں کہ سیکورٹی سخت کردی گئی لیکن مسلسل دھماکوں سے ثابت ہواہے کہ یہ محض دعوے ہیں۔ ‘‘ پشاور تین اطراف سے قبائلی علاقوں کے ساتھ جڑا ہواہے اورقبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کے اثرات یہاں ضرور سامنے آئیں گے۔ جب مالاکنڈ ڈویژن میں آپریشن اورقبائلی علاقوں پرامریکی طیاروں کی بمباری ہوگی تواسکا ردعمل یہاں ظاہر ہوگا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز نے عوام کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا اورعملا ً حکومت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔

کینیڈین صحافی اغوا: دوسری جانب قبائلی سرحد پر واقع ضلع بنوں سے خدیجہ نامی کینڈین خاتون صحافی کوان کے چار ساتھیوں سمیت نامعلوم افراد نے اغواءکرلیاہے۔ یہ خاتون صحافی ضلع بنوں میں ٹہری تھیں اورقبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے بارے میں دستاویزی فلم تیار کررہی تھی۔ مسلح افرادنے انہیں سرہ درہ کے علاقہ سے اغواءکیا اور بعد میں ان کے ڈرائیور کو رہا کردیا۔

ادھر سوات ، مہمندایجنسی اور پشاورکے نواحی علاقوں متھرا اورمتنی میں سیکورٹی فورسز اورعسکریت پسندوں کے مابین جھڑپوں کے دوران دو سیکورٹی اہلکار وں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ پشاورکے بعض نواحی علاقوں سمیت چارسدہ کے مہمند ایجنسی سے ملنے والے سرحد ی علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیاگیا ہے ۔ یکے بعد دیگر خود کش حملوں اورتشدد کے واقعات سے شہر میں خوف وہراس پھیل گیاہے۔