1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سرحدی کشیدگی کے باعث بھارتی زیر انتظام کشمیر میں اسکول بند

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سینکڑوں اسکولوں کو آج بدھ کے روز سے غير معينہ مدت کے ليے بند کر ديا گيا ہے۔ کنٹرول لائن پر تازہ کشيدگی کے سبب اس متنازعے علاقے ميں کم از کم چودہ سويلين ہلاک ہو گئے ہيں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کے روز جموں کے علاقے میں شیلنگ کے نتیجے میں آٹھ سویلین کی ہلاکت کے بعد قریب 300 اسکولوں کو آج بدھ دو نومبر سے غیر معینہ مدت کے لیے بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔

جموں کے علاقے کی مقامی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار پون کوتوال نے اے ایف پی کو بتايا، ’’جموں کے اضلاع سامبا اور کاٹھوا میں قریب 300 ریاستی اور پرائیویٹ اسکولوں کو بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔‘‘ کوتوال کا مزید کہنا تھا کہ منگل اور بدھ کی درميانی شب حالات ذرا بہتر رہے اور کسی تصادم کی اطلاع موصول نہيں ہوئی۔

بھارتی حکام کے مطابق منگل یکم نومبر کو سامبا اور راجوڑی سیکٹرز میں بھارتی زیر انتظام جموں اور کشمیر کے علاقے میں مارٹر شیل گرنے کے سبب آٹھ سویلین ہلاک ہوئے تھے جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔

پير 31 اکتوبر کو پاکستانی حکام کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے پار بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے سبب پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں چھ سويلين ہلاک ہوئے تھے، جن ميں ايک اٹھارہ ماہ کی بچی بھی شامل تھی۔ اسلام آباد حکومت نے اس معاملے پر احتجاج کرنے کے لیے بھارتی سفارت کار کو دفتر خارجہ میں طلب بھی کیا تھا۔

Pakistan | Kaschmir | An Indian army soldier keeps guard from a bunker near the border with Pakistan in Abdullian (REUTERS/M. Gupta)

پير 31 اکتوبر کو لائن آف کنٹرول کے پار بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے سبب پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں چھ سويلين ہلاک ہوئے تھے، جن ميں ايک اٹھارہ ماہ کی بچی بھی شامل تھی

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ایک علیحدگی پسند تنظیم کے نوجوان کمانڈر برہان الدین وانی کی رواں برس جولائی میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے وہاں حالات کشیدہ ہیں۔ بھارتی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے سبب جولائی سے اب تک 90 سے زائد کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس وادی کے بہت سے علاقوں میں کرفیو نافذ رہتا ہے۔

اسی دوران اڑی کے مقام پر موجود بھارتی فوج کے ایک کیمپ پر عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت کی طرف سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے، تاہم پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک ایسے واقعات کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔