1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سرت پر معمر قذافی کے حامیوں کا زبردست حملہ

سرت شہر میں معمر قذافی کے حامی فوجیوں کی جانب سے قذافی مخالف جنگجوؤں کے خلاف زبردست کارروائی کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے کی وجہ سے قذافی مخالف دستوں کو پسپا ہونا پڑا ہے۔

default

خبر رساں ادارے AFP کے مطابق سرت شہر کے ایک سابقہ پولیس ہیڈکوارٹر کی عمارت پر قابض قومی عبوری کونسل کے جنگجوؤں کو قذافی کی حامی فورسز کی جانب سے راکٹوں اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہ دو کلومیٹر دور مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ سرت کے ڈالر اور نمبر دو نامی اضلاع میں قذافی کے حامی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ان کے پاس بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی موجود ہے۔

AFP کے مطابق عبوری حکومت کے جنگجوؤں نے جمعے کی شام سرت کے جن دو علاقوں پر قبضہ کیا تھا، اب یہ علاقے ایک مرتبہ پھر معمر قذافی کے حامیوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قذافی کی حامی فورسز کی جانب سے شہر پر حملہ آور جنگجوؤں کے خلاف درجنوں راکٹ فائر کیے گئے جبکہ انہوں نے مشین گنوں کے ساتھ ساتھ مارٹر گولوں کا سہارا بھی لیا۔ راکٹوں اور گولوں کے باعث متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز ان حملوں میں ایک شخص ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے۔

Flash-Galerie Kämpfe um Sirte Libyen

سرت پر قبضے کے لیے جنگ کئی روز سے جاری ہے

قذافی کے حامیوں کی جانب سے اس بڑی کارروائی سے قبل قومی عبوری کونسل کے مصراتہ بریگیڈ کے ایک کمانڈر نے کہا تھا کہ قذافی کے سپاہی سرت شہر کے ایک چھوٹے سے علاقے میں موجود ہیں تاہم انہیں شکست سے دوچار کرنے اور اس علاقے میں داخل ہونے کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

’’ہم اس علاقے کو ایک دن میں حاصل کر سکتے ہیں مگر مجھے اس کے لیے اپنے 100ساتھیوں کی جان کا نقصان برداشت کرنا ہو گا۔ بہترین حکمت عملی یہی ہو سکتی ہے کہ اس ڈیڑھ کلومیٹر کے علاقے کو بموں سے اڑا دیا جائے۔ ‘‘

ہفتے کی صبح قومی عبوری کونسل کے عسکری بازو کے کمانڈروں کی ایک میٹنگ بھی ہوئی، جس میں کہا گیا کہ معمر قذافی ممکنہ طور پر انہیں دونوں اضلاع میں سے کسی میں موجود ہیں اور ان دونوں علاقوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM