1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سرت سے شہریوں کا انخلاء، عبوری کونسل کا فیصلہ کن حملے کا عندیہ

منگل کو لیبیا میں متحارب فریقوں کے درمیان فائر بندی کے وقفے کے دوران سرت سے شہریوں کا بڑے پیمانے پر انخلاء ہوا جبکہ عبوری حکومت نے معمر قذافی کے آبائی شہر پر فیصلہ کن حملہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

default

سرت سے نکلنے والے بیشتر افراد کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ہفتوں سے انقلابی جنگجوؤں کے خلاف سخت مزاحمت قذافی کے فوجی دستوں کی بجائے شہری خود کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی حفاظت کے لیے رضاکارانہ طور پر ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔

شہر سے نکلنے والی گاڑیوں کی لمبی قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنے والے 31 سالہ موسٰی احمد نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’’اس نام نہاد انقلاب نے ہمیں کچھ نہیں دیا۔ مگر ہم کھلے عام کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ جب ہمارا انقلابیوں سے سامنا ہوتا ہے تو ہمیں اپنے جذبات چھپانے پڑتے ہیں۔‘‘

لیبیا کے نئے حکمران قذافی کے دور حکومت کی آخری باقیات کا خاتمہ کرنے کے لیے سرت پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ سرت معمر قذافی کا آبائی شہر ہے جو دارالحکومت طرابلس سے 400 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے۔ باغیوں کے طرابلس پر قبضے کے چھ ہفتے گزر جانے کے بعد بھی معمر قذافی روپوش ہیں اور ان کا کچھ اتا پتا نہیں جبکہ ان کے حامیوں کا اب بھی سرت، بنی ولید اور بعض دیگر صحرائی شہروں پر قبضہ ہے۔

Flash-Galerie Vormarsch der Rebellen in Sirte

سرت کے ابن سینا ہسپتال میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی سہولیات کے فقدان کے باعث مریض دم توڑ رہے ہیں

منگل کو امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے قاہرہ میں صحافیوں کو بتایا کہ جب تک لڑائی جاری ہے لیبیا میں جاری نیٹو کا فضائی مشن ختم نہیں کیا جا سکتا۔ نیٹو نے تیس ستمبر کو اپنے مشن میں نوے روز کی توسیع کی تھی۔  لیبیا کے عبوری وزیر اعظم محمود جبریل بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ عبوری قیادت کی جانب سے فتح اور انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے قبل سرت کو زیر نگیں لانا ضروری ہے۔

منگل کو جنگجوؤں نے گولہ باری روک کر شہریوں کو سرت سے نکلنے کا موقع دیا تو مردوخواتین اور بچوں پر مشتمل سینکڑوں گاڑیوں کی قطار لگ گئی۔ ان میں سے کئی افراد کا کہنا تھا کہ شہر میں ضروریات زندگی کی اشیاء کا فقدان ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ زخمیوں کو علاج کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ امدادی اداروں کو شہر کے اندر پھنسے ہوئے شہریوں کی حالت پر تشویش ہے۔

Muammar al Gaddafi / Libyen

لیبیا کے سابق وزیر اعظم البغداری المحمودی نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں معمر قذافی ابھی تک ملک کے اندر موجود ہیں اور وہ آخری دم تک لڑنے کو تیار ہیں

سرت میں انسانی المیے پر پائے جانے والے خدشات کے باعث توجہ ابن سینا ہسپتال کی طرف مرکوز ہو گئی ہے جہاں آکسیجن کی عدم دستیابی اور جنریٹروں کے لیے ایندھن دستیاب نہ ہونے کے سبب مریض دم توڑ رہے ہیں۔ شہر سے نکلنے والی ایک خاتون ڈاکٹر نے بتایا کہ دونوں فریقوں کی جانب سے ہسپتال پر بھی فائرنگ کی جا رہی ہے۔

ادھر تیونس میں قید لیبیا کے سابق وزیر اعظم البغداری المحمودی نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں معمر قذافی ابھی تک ملک کے اندر موجود ہیں اور وہ آخری دم تک لڑنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’جہاں تک میں ان کو جانتا ہوں وہ اپنے ہتھیاروں اور ساتھیوں کے ہمراہ لڑ رہے ہیں۔‘‘

منگل کو لیبیا کے نئے حکمرانوں نے جنگجوؤں کے ایک گروپ کو قومی فوج میں شامل کرنے کی تقریب منعقد کی ۔ طرابلس کے ضلع سوق الجمعہ میں فوجی بینڈ کی دھنوں میں 500 نئے رنگروٹوں نے پریڈ کی۔ نئی حکومت کے لیے بڑا مسئلہ شمولیتی حکومت کا قیام اور مختلف جنگی یونٹوں کو ایک مرکزی دھارے میں لانا ہے۔ طرابلس عسکری کونسل نے پیر کو طرابلس سے باہر کے تمام فوجی یونٹوں کو اپنے بھاری ہتھیار شہر سے باہر منتقل کرنے کو کہا تھا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عابد حسین

DW.COM