1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سرتھ فونسیکا سات سال کے لئے شہری حقوق سے محروم

سری لنکا کے صدر مہیندا راجا پاکسے نے ملکی فوج کے سابق سربراہ سرتھ فونسیکا کو سنائی گئی 30 ماہ کی سزائے قید کی توثیق کر دی ہے۔ فونسکیا سے اگلے سات برسوں کے لئے ان کے شہری حقوق بھی چھین لئے گئے ہیں۔

default

ایک طویل عرصے تک سری لنکا میں ایک معتبر شخصیت سمجھے جانے والے جنرل ریٹائرڈ سرتھ فونسیکا ملک میں ہونے والے گزشتہ صدارتی انتخابات کے بعد سے ہی متنازعہ بن گئے تھے۔ ایک طرف انہوں نے صدارتی امیدواربن کر فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ پھر ان پر الزام تھا کہ انہوں نے فوج کی جانب سے دئے جانے والے ٹھیکوں میں بدعنوانی کی اور ساتھ ہی صدر کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔ ان الزامات کی وجہ سے انہیں گزشتہ پانچ ماہ سے کورٹ مارشل کا سامنا تھا۔ فوجی عدالت نے تجویز کیا کہ فونسیکا نے وقت سے پہلے سیاست میں حصہ لے کر فوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔

Sri Lanka Wahl Wahlen Mahinda Pajapaska Sarath Fonseka

رواں برس 26 جنوری کو صدارتی انتخابات میں سابق جنرل فونسیکا موجودہ صدر مہیندا راجا پاکسے کے مقابلے میں معمولی فرق سے ہار گئے تھے

فوجی عدالت نے اس ماہ کی 17 تاریخ کو ہی فونسیکا کے لئے 30 ماہ کی قید کی سزا تجویز کی تھی لیکن صدر راجا پاکسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے غرض سے نیو یارک میں تھے۔ اس وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔ فوجی ترجمان میجر جنرل اوبایا میداوالا نے بتایا کہ صدر راجا پاکسے کی جانب سے اس سزا کی توثیق کے بعد اس پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق سابق جنرل فونسیکا کو اس وقت کولمبو کی ولیکاڈو جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے اور انہیں سنائی جانے والی سزا قیدِ بامشقت ہے۔

رواں برس 26 جنوری کو صدارتی انتخابات میں سابق جنرل فونسیکا موجودہ صدر مہیندا راجا پاکسے کے مقابلے میں معمولی فرق سے ہار گئے تھے۔ اس کے بعد ان کی جماعت نے اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بھی راجا پاکسے کی مخالفت کی تھی۔ تاہم پارلیمانی انتخابات کے دوران سرتھ فونسیکا کو کورٹ مارشل کا سامنا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے ’’کورٹ مارشل کوانہیں انتخابات سے دور رکھنے کی ایک سازش‘‘ قرار دیا تھا۔

Sri Lanka Donnerstag 21. Mai 2009

فونسیکا نے تامل علیحدگی پسند باغیوں کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا

سرتھ فونسیکا نے تامل علیحدگی پسند باغیوں کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ وہ گزشتہ برس نومبر کے آخر تک سری لنکا میں ملکی فوج کے سربراہ کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ پچھلے سال نومبر میں ہی اپنے اس عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ صرف صدر راجا پاکسے کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے ہی انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

صدر راجا پاکسے کی جانب سے سزا کی توثیق کے بعد سرتھ فونسیکا کی پارلیمانی رکنیت بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ سری لنکا کے آئین کے مطابق اگر کسی رکن پارلیمان کو دو سال سے زائد کی سزا ہو جائے تو اسے اس کی پارلیمانی نشست سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فونسیکا سے سات سال تک ان کے شہری حقوق بھی واپس لے لئے گئے ہیں، جس کے باعث اب اس عرصے کے لئے وہ نہ تو ووٹ ڈال سکتے ہیں اور نہ ہی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔ سری لنکا میں اگلے پارلیمانی انتخابات 2016ء میں ہوں گے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس