1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سربیا کا شامی ڈاکٹر، مہاجرین کا مسیحا

سربیا میں مقیم ایک شامی نژاد ڈاکٹر بیمار مہاجرین کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ شامی نژاد ڈاکٹر سربیا میں گزشتہ تیس برسوں سے مقیم ہے۔

Serbien gestrandete Migranten leben in verlassenen Gebäuden in Belgrad (Marko Drobnjakovic/MSF)

سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں برف پر کھڑے مہاجرین

بلقان خطے کی ریاست سربیا میں شام سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر یاسر ہراوی کی موجودگی نے بیمار مہاجرین کے لیے غیرمعمولی راحت کا سامان پیدا کر رکھا ہے۔ اکاون سالہ ڈاکٹر ہراوی کو اپنے ملک کے مہاجرین کی خدمت کرنے سے ناقابل بیان خوشی اور سکون ملتا ہے۔ وہ صرف شامی مہاجرین کو ہی علالت کی صورت میں علاج کی سہولت مہیا نہیں کرتے بلکہ کوئی بھی بیمار مہاجر اُن کے پاس پہنچ جائے تو اُسے طبی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

یاسر ہراوی تیس برس قبل سربیا پڑھنے کے لیے آئے تھے۔ اُس وقت وہ اپنے والد کے اُس فیصلے پر خوش نہیں تھے کہ وہ سربیا ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جائیں جبکہ ہراوی خود امریکا یا کینیڈا جانے کے متمنی تھے۔ اب سربیا میں وہ بیمار مہاجرین کو شفایابی دے کر خیال کرتے ہیں کہ اُن کے والد نے ان کے لیے سربیا کا انتخاب کر کے ایک درست فیصلہ کیا تھا۔

مغربی یورپ پہنچنے کے متمنی ہزاروں مہاجرین اس وقت بلقان خطے کی ریاستوں میں شدید سردی میں اپنے دھندلاتے مستقبل کا خواب لیے مختلف بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

Serbien gestrandete Migranten leben in verlassenen Gebäuden in Belgrad (Marko Drobnjakovic/MSF)

عارضی پناہ گاہوں میں مہاجرین لکڑیاں جلا کر شدید سردی میں خود کو حدت فراہم کرتے ہوئے

سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں کم از کم انہیں یاسر ہراوی کی شکل میں ایک طبیب دستیاب ہے۔ ڈاکٹر یاسر ہراوی مہاجرین کے مختلف کیمپوں میں جا جا کر بیمار تارکین وطن کی عیادت کے ساتھ ساتھ انہیں ادویات کے علاوہ خوراک اور گرم کپڑے بھی فراہم  کرتے ہیں۔ وہ مختلف امدادی گروپوں میں بھی شامل ہو کر اپنی طبی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ہراوی کا کہنا ہے کہ وہ خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں اپنے ہم وطنوں کی کوئی مدد کرنے سے دور ہیں لیکن سربیا میں اپنے لوگوں کی مدد کا کوئی موقع ضائع نہیں کر رہے۔ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس طریقے سے اپنے شامی لوگوں کی مدد کر کے انتہائی سکون محسوس کرتے ہیں۔

ہراوی سن 1983 سے سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں مقیم ہیں۔ اس دوران پہلے انہوں نے سابقہ یوگوسلاویہ کی ٹوٹ پھوٹ دیکھی اور اب اپنے سابقہ وطن کی خانہ جنگی اور ہم وطنوں کی مہاجرت دیکھ رہے ہیں۔ رہے ہیں۔ آخری مرتبہ وہ چھ برس قبل شام گئے تھے۔