1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سربیا، ’پاکستانی اور افغان مہاجرین کی بھوک ہڑتال‘

سربیا میں موجود سینکڑوں پاکستانی اور افغان مہاجرین نے بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے ہنگری کی سرحد کی طرف مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان لوگوں کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح یورپی یونین میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجائیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بلغراد سے آمدہ رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ تقریبا تین سو مہاجرین اور تارکین وطن افراد نے احتجاج کرتے ہوئے ہنگری کی سرحد کی طرف مارچ شروع کیا تو پولیس کی نفری بھی وہاں تعینات تھی۔ ان لوگوں میں زیادہ تر پاکستانی اور افغان باشندے شامل ہیں، جو مہاجرت کا طویل سفر طے کرتے ہوئے سربیا پہنچے ہیں۔

DW.COM

ہنگری کی طرف سے سرحدوں کو بند کر دیے جانے کے بعد یہ مہاجرین سربیا میں ہی محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ بائیس مارچ کو سخت گرمی کے باوجود ان مہاجرین نے بلغراد سے اپنا احتجاجی مارچ شروع کیا۔ بلغراد سے ہنگری کی سرحدی گزر گاہ دو سو کلو میٹر دو واقع ہے۔

مظاہرہ کرنے والے ان مہاجرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر درج تھا، ’ہم آج مارچ کر کے اور کھانا نہ کھا کر کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘۔ ایک کارڈ پر درج تھا، ’اگر مہاجرین کو آنے سے روکنا ہے تو جنگیں ختم کر دو‘ ۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے باشندے عبدالمالک نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم ہنگری کی سرحد کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘ ان مہاجرین کا کہنا ہے کہ سرحدیں کھول دی جائیں تاکہ وہ یورپی یونین میں داخل ہو سکیں۔

چوبیس سالہ مالک نے کہا، ’’آج ہم بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ہم کھانا نہیں کھانا چاہتے۔ ہم یہاں کھانے نہیں آئے، ہم بھوکے نہیں ہیں۔‘‘ رواں ماہ کے دوران سربیا میں مہاجرین آنے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہنگری کی طرف سے سخت سرحدی کنٹرول کے باعث یہ مہاجرین اب آگے نہیں جا سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعدادوشمار کے مطابق ہنگری کے ساتھ متصل سربیا کی سرحد پر کم ازکم اٹھائیس سو مہاجرین نے عارضی کیمپ لگا رکھے ہیں۔ سربیا کے حکام کے مطابق رواں برس کے دوران ملک میں ایک لاکھ دو ہزار مہاجرین اور تارکین وطن رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔

Mazedonien Grenzübergang zu Griechenland Gevgelija

ان لوگوں کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح یورپی یونین میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجائیں

مالک کے بقول وہ بیس دن تک بلغراد میں رہا، جہاں اسے رہائش نصیب نہ ہو سکی، جس کے بعد اس نے ہنگری کی سرحد کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ مالک کا کہنا تھا، ’’سربیا کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ وہ مہاجرین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں لیکن ہمیں ہنگری کے ساتھ مسئلہ ہے، جس نے اپنی سرحد بند کر رکھی ہے۔‘‘

مالک نے بتایا کہ اس احتجاجی مارچ میں صرف نوجوان اور کچھ بزرگ لوگ شامل ہوئے ہیں جبکہ خواتین اور بچے شریک نہیں ہوئے۔ مالک کے مطابق گرمی اور طویل سفر کے باعث انہیں بلغراد میں ہی رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔