1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

سربیا نے فرانس کو ہرا کر ڈیوس کپ جیت لیا

سربیا نے ٹینس چیمپیئن شپ ڈیوس کپ میں فرانس کو شکست دے دی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں سربیا کی یہ پہلی جیت ہے، جس میں اس کے کھلاڑی وکٹر ٹروچکی نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مقابلوں کے آخری میچ میں فرانس کے مائیکل لودرا کو ہرایا۔

default

سربیا کے ٹینس سٹار نوواک جوکووچ

وکٹر ٹروچکی اور مائیکل لودرا کے درمیان اتوار کو بلغراد میں کھیلے گئے آخری میچ کا نتیجہ چھ دو چھ دو چھ تین رہا۔ قبل ازیں عالمی نمبر تین سربیا کے ٹینس سٹار نوواک جوکووچ نے فرانس کے گائل مونفلز کو شکست دے کر اپنی ٹیم کو حتمی جیت کے قریب پہنچایا۔

سربیا کے کپتان Bogdan Obradovic نے کہا، ’میرے کھلاڑیوں نے دکھا دیا ہے کہ وہ ذہنی طور پر دنیا کی مستحکم ترین ٹیم ہیں۔ ہم نے دکھا دیا کہ ہم نمبر وَن ہیں۔‘

فرانس کے کپتان گائے فورگیٹ نے کہا، ’ہمیں توقع تھی کہ آج کے (اتوار کے) دو میچ مشکل رہیں گے، لیکن ہم نے یہ نہیں سوچا تھا کہ وکٹر اس قدر اچھے کھیل کا مظاہرہ کرے گا۔’

سربیا نے ڈیوس کپ میں پہلی مرتبہ 1995ء میں شرکت کی تھی۔ جوکوووچ اور ٹیم کے کپتان نے پہلے ہی کہہ دیا کہ اس ٹورنامنٹ میں فتح ان کی قوم کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی، جس کی اس چیمپیئن شپ میں تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔

Tennisspieler Novak Djokovic Serbien

بہت بڑی کامیابی ملی ہے، جوکووچ

اتوار کو فائنل کھیلوں سے قبل سربیا 2-1 سے فرانس سے پیچھے تھا، جس نے ہفتے کے مقابلوں میں کامیابیاں سمیٹی تھیں۔ تاہم اتوار کے پہلے میچ میں جوکووچ نے 16 ہزار تماشائیوں کے سامنے مونفلز کو شکست دے کر کھیل برابر کر دیا۔ انہوں نے بعدازاں کہا، ’جس طرح کے حالات تھے، ان کے تناظر میں مجھ پر بہت دباؤ تھا لیکن میں نے اچھا کھیل پیش کیا۔ ہر چیز ہمارے حق میں رہی۔‘

جوکووچ نے کہا، ’میں چاہتا تھا کہ شائقین بیٹھے رہیں۔ میں جانتا تھا کہ ان کے لئے یہ مشکل ہوگا، میچ گھنٹوں چل سکتا تھا۔’

انہوں نے کہا، ’انفرادی سطح پر، ٹیم کے طور پر اور ہمارے ملک کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ ہم نے کیا پایا ہے۔ یہ میرے کیریئر کا بہترین موقع ہے، اور شاید میرے ملک کے لئے بھی۔ ہمارے لئے تو یہ ورلڈ کپ جیتنے کی مانند ہے۔‘

ٹروچکی نے کہا، ’یہ میری زندگی کا ناقابلِ یقین وقت ہے۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس