1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سربیا میں پناہ گزین ’قسمت پلٹنے کے انتظار میں‘

سرحدیں بند ہو جانے کی وجہ سے ہزاروں کے قریب مہاجرین ابھی بھی بلقان کی ریاستوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کی پریشانی اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔ سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں حالات کیسے ہیں؟

پندرہ سالہ افغان نوجوان سہیل سربیا میں پھنسے ہوئے ہزاروں پناہ کے متلاشیوں میں سے ایک ہے۔ وہ جرمنی جانا چاہتا ہے۔ اس کے بقول، ’’میں تنہا ہی سفر کر رہا ہوں، کوئی میری حفاظت نہیں کر رہا اور نہ ہی جرمنی میں میرا کوئی رشتہ دار ہے۔‘‘ سہیل نے مزید بتایا کہ اس کے گھر والوں نے ہی اسے یہاں  بھیجا ہے، ’’میرے والد نہیں چاہتے کہ میں ان کی طرح کسان بنوں‘‘۔ سہیل بھی دیگر ہزاروں افراد کی طرح اس وقت بلقان کے خطے میں پہنچا، جب سرحدیں بند ہو چکی تھیں۔

یہاں پر حالات کافی خراب ہو چکے ہیں۔ ہنگری روزانہ صرف بیس افراد کو سرحد پار کرنے دیتا ہے اور یہ بھی علم نہیں کہ ان لوگوں کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے۔ افغان نوجوان بلغراد کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک پرانی سی عمارت میں رہ رہا ہے۔ عمارت کے اطراف میں کوڑا پھیلا ہوا ہے اور تعفن کی وجہ سے اس عمارت میں رہنا واقعی ایک مشکل کام ہے۔ سہیل گزشتہ ایک مہینے  سےان حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

سہیل سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس نے حکام سے رابطہ کیوں نہیں کیا تاکہ اسے پناہ گزین کے کسی مرکز میں منتقل کیا جائے؟ اس کا کہنا تھا کہ سربیا میں ایسے مراکز کی تعداد بارہ ہے اور ان میں سات ہزار افرار کی گنجائش ہے۔ اس کے بقول وہ کسی مرکز میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ وہاں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ افراد ہیں، ’’مقدونیا کی سرحد کے قریب  واقع پناہ گزینوں کے ایک مرکز میں جگہ ہے لیکن ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہاں سے لوگوں کو سربیا بدر کر دیا جاتا ہے‘‘۔

بلغراد میں ایسے گروہ بھی سرگرم ہیں، جو انسانوں کو ایک سے دوسرے ملک پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ گروہ پیسے لےکر پناہ گزینوں کو غیر قانونی طور پر رہائشیں بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایک شخص نے بتایا کہ مقدونیا سے سربیا پہنچانے کے لیے یہ جرائم پیشہ افراد تین سے پانچ سو یورو تک وصول کرتے ہیں۔

پندرہ سالہ سہیل کو عالمی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ صرف سربیا سے فوری طور پر نکلنا چاہتا ہے۔ اس کے بقول، ’’سردیاں شروع ہو چکی ہیں اور یہاں بلقان میں دن میں دھوپ نکلتی ہے لیکن راتیں شدید سرد ہوتی ہیں اور ایسے حالات میں بنیادی سہولیات سے محروم اس عمارت میں قیام نہیں کیا جا سکتا۔‘‘