1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سربیا میں مہاجرین کی بے چینی بڑھتی ہوئی

سربیا اور ہنگری کی سرحد پر قائم عارضی پناہ گاہوں میں موجود نڈھال لیکن پُرامید مہاجرین سرحدی رکاوٹوں اور شدید گرمی کی پروا کیے بغیر پُرعزم ہیں کہ وہ یورپی یونین میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

یورپی یونین نے غیرقانونی مہاجرین اور تارکین وطن کی آمد کو روکنے کی خاطر سخت قوانین متعارف کرا دیے ہیں۔ تاہم سربیا میں موجود پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ وہ بہتر زندگی کی خاطر شروع کیے جانے والا سفر ترک نہیں کریں گے۔ انہیں اب بھی امید ہے کہ وہ ہنگری میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

DW.COM

مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریبا چھ سو مہاجرین گزشتہ ماہ سے ہنگری کی سرحد سے کچھ میٹر دور ہی عارضی خیموں میں موجود ہیں۔ ہنگری نے اپنی سرحدی گزرگاہ پر خار دار تاریں نصب کر رکھی ہیں جب کہ سکیورٹی کا بھی سخت انتظام ہے۔ Horgos-Roszke نامی سرحدی گزر گاہ پر موجود یہ مہاجرین دراصل ہنگری میں پناہ کی درخواست جمع کرانے کے متمنی ہیں۔

شورش زدہ خطوں سے تعلق رکھنے والے یہ افراد اس بات سے بے نیاز ہیں کہ ہنگری کی حکومت نے نہ صرف سیاسی پناہ سے متعلق اپنے ملکی قوانین کو سخت بنا دیا ہے بلکہ یہ بھی باور کرا دیا ہے کہ غیرقانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے مہاجرین کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ پانچ جولائی سے ان نئے قوانین کو لاگو کیا جا چکا ہے۔

بوڈاپیسٹ میں حکومت کی طرف سے ان تازہ ترین اقدامات کی وجہ سے سربیا میں موجود پناہ گزینوں کی بے چینی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سربیا میں اقوام متحدہ کے ایک اہل کار کے مطابق مہاجرین اب بے قرار ہو چکے ہیں کیوں کہ انہیں اپنے خوابوں کے ٹوٹ جانے کا خدشہ ہے۔ اسی لیے ہنگری کی سرحد پر جمع ہونے والے ان مہاجرین کی تعداد میں گزشتہ چند روز میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس وقت وہاں موجود تقریبا ساڑھے تیزرہ سو مہاجرین میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

اسی طرح سربیا کے دیگر علاقوں میں بھی مہاجرین کا ہجوم دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ گزشتہ کچھ ماہ سے سربیا پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی ہوئی ہے لیکن پھر بھی رواں برس کے دوران سربیا آنے والے مہاجرین کی یومیہ اوسط تعداد پانچ سو بنتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سن دو ہزار سولہ میں تقریبا ایک لاکھ دو ہزار مہاجرین اور تارکین وطن سربیا میں رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں۔

Ungarn Flüchtlinge harren vor Transitzone aus

مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکروں ہنگری کی سرحد سے کچھ میٹر دور ہی عارضی خیموں میں موجود ہیں

Ungarn Flüchtlinge an der Grenze zu Serbien

سربیا میں موجود پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ وہ بہتر زندگی کی خاطر شروع کیے جانے والا سفر ترک نہیں کریں گے

Ungarn Flüchtlinge in Kiskunhalas

سربیا کے دیگر علاقوں میں بھی مہاجرین کا ہجوم دیکھا جا سکتا ہے

Karte Ungarn Grenzstädte Kroatien Serbien Englisch

سربیا سے ہنگری داخل ہونے والے مہاجرین آگے جرمنی اور دیگر ممالک جانا چاہتے ہیں

Deutschland ungarische Soldaten schließen den Grenzzaun zu Serbien bei Roszke

ہنگری نے اپنی سرحدی گزرگاہ پر خار دار تاریں اور رکاوٹیں نصب کر رکھی ہیں

ادھر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ نے بتایا ہے کہ سربیا میں مہاجر کیمپوں کی صورت حال انتہائی ابتر ہے اور بالخصوص ہروگوس کے مقام پر عارضی شیلٹر ہاؤس میں نکاسی آب کے مسائل کے علاوہ بنیادی امدادی اشیاء کا شدید فقدان ہو چکا ہے۔

اس صورت حال میں کئی مہاجرین انسانی اسمگلروں کی مدد سے سربیا سے ہنگری داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن سکیورٹی اہل کار انہیں پکڑ کر واپس سربیا روانہ کر رہے ہیں۔ ہنگری میں حکام نے بتایا ہے کہ رواں برس تقریبا سترہ ہزار مہاجرین ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر چکے ہیں۔