1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سربیا میں حکومت سازی کی کوششیں

سربیا کے مغرب نواز اتحاد نے حالیہ عام انتخابات کے ابتدائی نتائج کے اعلان کے بعد حکومت کی تشکیل کے لئے نسبتا چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کے لئے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔

default

یورپی یونین میں سربیا کی شمولیت کے حامی ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر بورس ٹاڈچ انتخابی جیت کی خوشیاں مناتے ہوئے

سربیا کے الیکشن کمیشن کی ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی اڑتیس اعشاریہ سات فیصد جبکہ قوم پرست ریڈیکل پارٹی اڑتیس انتیس اوعشاریہ دو فیصد ووٹ لینے میں کامیاب ہو پائی ہیں۔ اگرچہ ڈیموکریٹک پارٹی کو اپنی حریف جماعت پر برتری حاصل ہے لیکن انخابات میں کسی بھی پارٹی کو حکومت سازی کے لئے درکار اکثریت حاصل نہیں ہو پائی ہے۔

انتیس فیصد ووٹ حاصل کرنے والی نیشنلسٹ ریڈیکل پارٹی کا کہنا ہے کہ ان حالات میں دیگر پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کی صورت میں وہ بھی حکومت سازی کی پوزیشن میں ہیں۔ جبکہ کامیاب جماعت ڈیموکریٹک پارٹی دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے لئے پہلے ہی گفتگو کا آغاز کر چکی ہے۔

Serbien Wahlen Nikolic bei der Stimmabgabe

سرب قوم پرست جماعت ریڈیکل پارٹی کے سربراہ ٹومی سلاو نکولچ اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے

سربیا میں انتخابات کا ایک بنیادی موضوع رواں برس سربیا سے علیحدہ ہونے والے صوبے کوسوو کی خودمختاری کو یورپی یونین کی حمایت تھا۔ یورپی یونین کی جانب سے اس اقدام کے بعد سربیا کی سابقہ حکومت اختلافات کا شکار ہونے کے باعث ٹوٹ گئی تھی۔

یورپی یونین میں شمولیت کی حامی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ بورس ٹاڈچ نے انتخابات کے ابتدائی نتائج کے حوالے سے کہا کہ سرب عوام نے واضح طور پر یورپ سے اتحاد کی راہ کو چن لیا ہے لیکن اب ڈیموکریٹک پارٹی کو جلد از جلد حکومت بنانا ہو گی۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے اس امر کی بھی وضاحت کی کہ وہ کوسوو کی آذادی کو تسلیم نہیں کریں گے۔

دوسری جانب ریڈیکل پارٹی کے سربراہ ٹامی سلاو نکولچ کا کہنا ہے کہ ایک ایسے سیاسی اتحاد کی حکومت بننے کے واضح امکانات موجود ہیں جس میں ڈیموکریٹک پارٹی شامل نہیں ہو گی۔

سربیا میں ستر لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں اور ایک غیر سرکاری ادارے کے جائزے کے مطابق حالیہ انتخابات میں ووٹنگ کی شرح ساٹھ اعشاریہ سات فیصد رہی۔ سربیا کی کرنسی اور سٹاک ایکسچینج میں بہتری کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی نظریں حکومت سازی کے لئے بننے والے مجوزہ اتحاد پر جمی ہوئی ہیں۔